ایک سفر
Urdu book, p. 501
By Maulana Wahiduddin Khan
جان سکتے ہیں۔ مگر کئی قسط میں چھپنے والا سفر نامہ بھی اتنا ہی نا مکمل ہوتا ہے جتنا مذکورہ قسم کا ایک سطر کا خبر نامہ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر بات غیر مذ کور ہے۔ بولے ہوئے تمام الفاظ اور لکھے ہوئے تمام مضامین اصل واقع کو بیان کرنے کے لئے اتنا ہی نا مکمل ہیں جتنا ٹیلی فون کے پورے نظام کو بتانے کے لئے لفظ ٹیلی فون حقائق کی دنیا اس سے زیادہ ہے کہ الفاظ کا کوئی بھی ذخیرہ اس کو بیان کر سکے۔ اس دنیا میں آدمی صرف اپنے سوچنے کی صلاحیت سے باتوں کو جانتا ہے نہ کہ دوسروں کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ سے۔ مجھے ہر سفر میں کچھ ایسے تجربات ہوتے ہیں جن کو لفظوں میں لکھا جائے تو وہ لفظوں میں نہیں سماتے۔ اور اگر ان تجربات کو نہ لکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا سفر نامہ لکھا ہی نہیں گیا۔ یہ ایک اعتبار سے گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل جیسا معاملہ ہے۔ تاہم یہ ایک انسان کے احساسات ہیں ، اور اصل حقیقت کا علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اظہار حقیقت کا اصل مقام آخرت ہے۔ عین ممکن ہے کہ جب آخرت آئے تو کہا ہوا بے کہا بن جائے ، اور جو بے کہا ہے ، وہی کہا ہوا اقرار پائے۔ انسان کے لئے صرف یہی سزا وار ہے کہ وہ اپنے عجز کا اقرار کرے اور مالک حقیقی سے رحمت و مغفرت کی دعا کرتا رہے۔ ہے کہ نہ رہا ہے، بر ہنہ، ٹراؤزرز اور شالوار میں اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader