Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 502

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر اسلامی سوسائٹی آف آرنج کاونٹی (کیلیفورنیا، امریکہ) کے زیر اہتمام چھٹی انٹرنیشنل سیرت کانفرنس کیلیفورنیا میں ۲۵ - ۲۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو ہوئی ۔ اس میں خطاب کرنے کے لئے مجھے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں امریکہ کا سفر ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی روداد درج کی جاتی ہے۔ دہلی سے روانگی ۲۲ اور ۲۳ دسمبر کی درمیانی رات کو ہوئی۔ اب سے ۴۴ سال پہلے اسی تاریخ کی درمیانی رات میں اجودھیا کی بابری مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں فرقوں کے درمیان مختلف واقعات پیش آتے رہے۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والی ایک بھیڑ اجودھیا میں اکٹھا ہوئی اور اس نے بابری مسجد کو ڈھاکر وہاں ایک عارضی مندر بنا دیا۔ آج کے اردو اخبار میں دہلی کے ایک خود ساختہ مسلم لیڈر نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ ۲۳ دسمبر کو بابری مسجد پر غیر قانونی قبضہ کی یادگار منائیں ۔ عملاً یہ اپیل غیر مسموع ہو کر رہ گئی۔ تاہم میں نے سوچا کہ یہ نام نہاد مسلم لیڈر اگر ہوش مند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ اب تم "یوم احتجاج" منانا چھوڑ دو، اب تم "یوم شکر" مناؤ ۔ کیوں کہ ملک کی انتہا پسند طاقتوں نے ۴۴ سال کے اندر اپنی تمام تخریبی طاقت استعمال کر ڈالی ۔ اس کے باوجود ملت اسلامی کا قافلہ انڈیا میں اور ساری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قسم کے واقعات تو ہماری گاڑی کے لئے گویا راستہ کی وہ رکاوٹیں (frictions) ہیں جو گاڑی کو تیز دوڑنے میں مددگار کا کام کرتی ہیں۔ رات کو ساڑھے گیارہ بجے گھر سے نکلا تو میری زبان پر یہ دعا تھی : اَللّٰهُمَّ اَنْتَ الصاحب في السفر والخليفة فى الاهل (اے اللہ ، تو ہی میرے سفر کا ساتھی ہے اور تو ہی میرے اہل میں خلیفہ ہے) میرے بچپن میں مولانا اسماعیل میرٹھی کی اردو ریڈرس پڑھائی جاتی تھیں۔ اگر چہ اس کے بعد سیکڑوں یا شاید ہزاروں درسی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر ویسی اردو ریڈر آج بھی کوئی دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page