Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 520

By Maulana Wahiduddin Khan

مبتلا نظر آئے۔ قرآن وحدیث کا مطالعہ خالی الذہن ہو کر کیا جائے تو ان میں مثبت تفکر کا پیغام ملے گا۔ مثلاً آپ قرآن کھولیں تو پہلی آیت شکر کی آیت ملے گی (الحمد للہ رب العالمین) گویا کہ قرآن وہ ذہن بنانا چاہتا ہے جو احساس یا فت سے سرشار ہو۔ مگر آج مسلمانوں کا ذہن احساس محرومی سے بھرا ہوا ہے۔ اسی طرح آپ صحیح بخاری کھولیں تو شروع ہی میں آپ کو یہ حدیث پڑھنے کو ملے گی کہ انما الاعمال بالنیات۔ گویا پیغمبر اسلام مسلمانوں میں وہ ذہن پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اندرونی حقیقتوں کو اہمیت دے ، ظاہری باتوں کو وہ نظر انداز کر دے۔ مگر آج مسلمانوں کی پوری سوچ ظواہر پر اٹکی ہوئی ہے۔ حقائق کی انہیں سرے سے خبر ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے فہم اسلامی کا ماخذ حقیقتہ قرآن وحدیث نہیں ہے۔ اس کا ماخذ ان مفکرین کی کتابیں ہیں جو رد عمل کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ اسی نفسیات کے تحت انھوں نے اسلام کی تعبیر پیش کی۔ اس تعبیری لٹریچر نے مسلمانوں کے اندر قرآن وسنت والا ذہن نہیں بنایا بلکہ رد عمل کا ذہن بنا دیا۔ یہی منفی ذہن ہے جس کا مظاہرہ آج ہر طرف نظر آتا ہے۔ اسی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہر جگہ یا تو لفظی ٹکراؤ جاری ہے یا ششیری ٹکراؤ۔ ایک سیاہ فام نومسلم نے تقریر کرتے ہوئے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی انٹلیکچول نہیں تھے : Prophet Muhammad was not an intellectual. اس پر بڑا ہنگامہ ہوا۔ میرا خیال ہے کہ مذکورہ نومسلم کی نیت بخیر تھی ۔ وہ جو بات کہنا چاہتا تھا اس کے لئے اس نے غلط لفظ کا استعمال کیا۔ غالباً وہ کہنا چاہتا تھا کہ پیغمبر اسلام آجکل کے رسمی تعلیمی تصور کے مطابق کوئی ڈگری یافتہ آدمی نہیں تھے۔ اسی بنا پر آپ کو آمی کہا گیا ہے مگر انٹلیکچول ہونا اس سے الگ چیز ہے ، اور اس اعتبار سے بلاشبہ آپ ایک سپر انٹلیکچول انسان تھے۔ ۲۵ دسمبر کی شام کو نماز مغرب کے بعد اعزازی دعوت (banquet) کا انتظام تھا۔ اس میں پرنس محمد فیصل السعو د بھی شریک ہوئے۔ وہ امریکہ کی سعودی ایمبیسی میں ڈیپارٹمنٹ آف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page