ایک سفر
Urdu book, p. 521
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامک ایفرنس کے چیئر مین ہیں، چند خاص افراد ان کے ساتھ کھانے میں بٹھائے گئے تھے۔ مجھ کو بھی بلا کر اس میں شریک کیا گیا تھا۔ میں خاموشی سے آکر بیٹھ گیا۔ انھوں نے ابتدا ہی مجھ کو پہچانا نہیں۔ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ گفت گو میں مشغول رہے۔ اس درمیان ایک عرب ڈاکٹر عبد القادر النجار آگئے۔ انھوں نے میرے بارہ میں بتایا کہ یہ فلاں شخص ہیں اور ان کی بہت سی کتابیں ہیں۔ پرنس فیصل اس سے پہلے رزرویشن کے ساتھ بات کر رہے تھے۔ مگر میرے بارہ میں جانتے ہی وہ بہت خوش ہوئے اور کھل کر باتیں کرنے لگے۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام تہذیبی اس وقت پڑھی جب کہ میری عمر 14 سال تھی۔ ہم لوگ اس کے بارہ میں مذاکرہ کیا کرتے تھے ۔ شیخ النجار نے میرے بارہ میں بتایا کہ انھوں نے انگریزی میں انسائیکلو پیڈیا آف قرآن تیار کی ہے اور اب اس کو چھپوا رہے ہیں۔ پرنس نے بہت دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ چھپتے ہی ان کے نام ایک نسخہ روانہ کیا جائے۔ ان کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی وہاں بھی انھوں نے اپنی انگریزی تقریر میں سب سے پہلے یہی بات کہی کہ مجھے آکر جب معلوم ہوا کہ یہاں شیخ وحید الدین موجود ہیں تو مجھے تعجب انگیز خوشی (pleasant surprise) ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو یہ کتاب خاص طور پر پڑھنا چاہئے جو عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود ہے۔ وغیرہ۔ جلسہ کے خاتمہ پر جب پرنس محمد فیصل السعود باہر نکلے تو گیٹ پر تین مسلم نوجوان انگریزی میں ان کے خلاف زور زور سے بولنے لگے۔ منتظمین جلسہ کے بارہ میں انھوں نے کہا کہ آپ لوگ ان کو ہزاکسیلنس کہہ کر خطاب کرتے ہیں، حالاں کہ سعودی تو ایسے اور ایسے ہوتے ہیں۔ پرنس تو فوراً چلے گئے ۔ مگر نوجوان بدستور زور زور سے چلاتے رہے۔ میں وہاں کھڑا ہو کر اس منظر کو خاموش دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ہوٹل کے جنرل منیجر مسٹر جاوید نواز آگئے ۔ اگر چہ لڑکے نہایت اشتعال انگیز انداز اختیار کئے ہوئے تھے۔ مگر مسٹر جاوید نواز ذرا بھی مشتعل نہیں ہوئے۔ انتہائی ٹھنڈے انداز میں انھوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ پرائیویٹ پراپرٹی ہے۔ آپ کو میں پانچ سکینڈ دیتا ہوں۔ آپ پانچ سکنڈ میں یہاں سے چلے جائیے ۔ ورنہ میں آپ کو پولیس کے حوالے کردوں گا۔ یہ سنتے ہی ان نوجوانوں کا حال ایسا ہوگیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader