ایک سفر
Urdu book, p. 522
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسے غبارہ کی ہوا نکل جائے۔ وہ خاموش ہو کر تیزی سے باہر چلے گئے ۔ میں نے سوچا کہ جھوٹی بہادری ہمیشہ جھوٹی بز دلی پر ختم ہوتی ہے۔ امریکہ میں مسلم نوجوانوں کی ایک انتہا پسند جماعت ہے۔ غالباً یہ لوگ اسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ لوگ ان مسلمانوں کو گمراہ سمجھتے ہیں جو خلافت کے لئے کوشش نہ کر رہے ہوں ۔ وہ امریکہ میں اسلامی خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہکیلی فورنیا در اصل خلیفہ نورنیا ہے۔ اور سب سے پہلے اسلامی خلافت یہیں قائم ہوگی۔ اس طرح کی کانفرنسوں میں عام طور پر اہلِ علم جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے ان میں اسٹیج کی تقریریں ہی سب کچھ نہیں ہو تیں۔ یہاں کھانے کی میز پر یا دوسرے مواقع پر جو ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، ان میں بھی اکثر علمی باتیں جاری رہتی ہیں۔ ایک بار کھانے کی میز پر طرز تحریر کے بارہ میں باتیں ہونے لگیں۔ مختلف لوگوں نے مختلف باتیں سنائیں۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی نے بتایا کہ ٹامس جیفرسن کی عادت تھی کہ وہ مختصر خط لکھا کرتا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ آپ ہمیشہ مختصر خط لکھتے ہیں۔ ٹامس جیفرسن نے جواب دیا کہ اگر میرے پاس زیادہ وقت ہوتا تو میں اور بھی مختصر خط لکھتا: If I had more time, I would have written even shorter letters. نیو یارک کے انگریزی سہ روزہ (The Minaret) کے ایڈیٹر مسٹر محمد عبدالمنعم نے ۲۶ دسمبر کی شام کو انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بہت سے لوگ انڈیا کا ذکر اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کوئی استثنائی ملک ہو اور وہاں مسلمانوں کے لئے ظلم ہی ظلم ہو۔ میں اس قسم کے نظریہ کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں۔ انڈیا میں بھی مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہی مواقع ہیں جو دوسرے ملکوں میں ان کے لئے ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے سوال میں بدقسمتی سے انڈیا میں ایسے مسلم لیڈر اٹھے جو مسلمانوں کو زندگی کی شاہراہ سے بھٹکاتے رہے۔ انھوں نے مسلمانوں کے ذہن کو مسائل میں الجھائے رکھا۔ جب کہ صحیح رہنمائی یہ ہے کہ لوگوں کو مواقع کو استعمال کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader