Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 529

By Maulana Wahiduddin Khan

کھنکتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تقسیم ہند کے خلاف ہیں۔ مگر آپ کی یہ رائے درست نہیں۔ جب سے میں امریکہ آیا ہوں مجھے یقین ہو گیا کہ جناح صاحب نے پاکستان بنو آکر بہت اچھا کیا۔ کیوں کہ ہم مسلمانوں کا اپنا ایک دیش تو ہے جو ہماری قومی پہچان ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ اور آپ جیسے لاکھوں پاکستانی مسلمان علیحدہ دیش کو اتنا زیادہ ضروری سمجھتے ہیں تو اپنا الگ دیش بنو آنے کے بعد وہ دوبارہ یورپ اور امریکہ میں اگر بے دیش کیوں ہو رہے ہیں۔ آپ لوگوں کا پاکستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں آباد ہونا خود آپ کے بیان کی تردید ہے۔ اگر پاکستان بننے کے بعد بھی آپ لوگوں کو غیر پاکستان میں رہنا تھا تو ایسی حالت میں پاکستان بنو آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ آپ لوگ علیحدہ ملک بنو آنے کے بعد دوبارہ مشترک ملک میں رہ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس تقسیمی سیاست نے مسلمانوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی صدیوں میں بھی نہیں ہو سکتی۔ واشنگٹن کے سعودی سفارت خانہ کی طرف سے ایک عربی پمفلٹ تقسیم کیا گیا۔ اس میں شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کے کچھ فتادئ جمع کئے گئے تھے۔ ایک سوال و جواب یہ تھا : س هل يجوز أن يُعطى الكافر نسخة من معاني القرآن الكريم علما أنها تحتوي على القرآن الكريم كاملاً في الصفحة المقابلة۔ ج لا حرج في إعطاء الكافر نسخة من معاني القرآن الكريم لان الحكم للترجمة ولما في ذلك من البلاغ والدعوة الى الاسلام۔ یعنی ایک کافر کو با ترجمہ قرآن دیا جا سکتا ہے۔ اس میں اگر چہ متن شامل ہے مگر وہ ترجمہ کے حکم میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں تبلیغ و دعوت کا فائدہ مضمر ہے۔ یہ بلاشبہ صحیح فتویٰ ہے۔ جو لوگ غیر مسلموں کو با ترجمہ قرآن دینے سے منع کرتے ہیں وہ دعوت و تبلیغ کے احساس سے خالی ہیں۔ وہ اسلام کی اسپرٹ کو سمجھنے سے محروم ہیں۔ ایک امریکی خاتون نے اسلام قبول کر لیا۔ اب وہ ایک پاکستانی مسلمان نصیر احمد مرزا سے نکاح کرکے اوٹا (Utah) میں رہتی ہیں۔ ان کا نام ہے اسے مرزا (Jeanine Aisha Mirza) ہے ۔ ان کا ایک انٹرویو میں نے پڑھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ اکثر امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم بیویاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page