Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 530

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ مگر ان کے نزدیک یہ خیال درست نہیں۔ یہ تو محض ایک تقسیم ہے۔ گھر کے باہر میرا شوہر باس ہے۔ لیکن گھر کے اندر میں باس ہوں: اس طرح کے متعدد واقعات میرے علم میں آئے۔ امریکہ کی لڑکیاں سفید فام نسل کے لڑکوں سے شادی کرنے میں متردد رہتی ہیں۔ کیوں کہ انھیں ہر وقت طلاق کا ڈر لگا رہتا ہے۔ اس بنا پر اکثر سنجیدہ لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں۔ یہ وہ لڑکے ہیں جو تعلیم وغیرہ کے مقصد سے امریکہ آتے ہیں۔ اس طرح کی شادیاں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ کیوں کہ اخبار کے لوگ ان امریکی لڑکیوں سے سوالات کرتے ہیں۔ اور وہ نہایت عمدہ انداز میں اسلام کی طرف سے دفاع کرتی ہیں۔ جس کی ایک مثال اوپر نقل ہوئی۔ امریکہ میں انڈیا کے مظلوم مسلمانوں“ کے نام پر بہت سی تنظیمیں قائم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو انڈیا سے براہ راست یا براستہ پاکستان امریکہ گئے اور پھر وہاں کے شہروں میں آباد ہو گئے۔ اپنی معاشی سرگرمیوں کے ساتھ انھوں نے انڈین مسلمانوں کی ہمدردی میں مختلف ناموں سے ادارے قائم کر رکھے ہیں۔ اس قسم کے ایک مسلمان نے مجھے ۸۰ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب دی ۔ اس میں مختلف اخبارات سے انڈیا کے مسلمانوں کے بارہ میں خبروں اور رپورٹروں کو جمع کیا گیا تھا۔ اس کا نام تھا: میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگوں کو اگر انڈیا کے مسلمانوں سے واقعی ہمدردی ہے تو آپ ان کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کے مضامین اور کتابیں چھاپ کر آپ انڈیا کے مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا کے مسلمانوں کے جو مسائل ہیں اس کے ذمہ دار خود آپ جیسے مسلم دانش ور ہیں۔ آپ لوگ خود تو امریکہ میں آخری حد تک ایڈجسٹ کر کے رہتے ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کو یہ سکھلاتے ہیں کہ وہاں وہ ٹکراؤ کر کے رہنے کی کوشش کریں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page