Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 532

By Maulana Wahiduddin Khan

کیوں کہ کسی آدمی کی اس سے بڑی محرومی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ وہ الحرا ء کے سامنے اندھا ہو۔ بلاشبہ یہ محرومی بڑی عجیب ہے کہ آدمی الحرا جیسے خوبصورت محل کے سامنے کھڑا ہو اور وہ اس کو دیکھنے کے لئے اندھا ہو۔ مگر اس سے بے شمار گنا زیادہ محرومی وہ ہو گی جب کہ خدا اپنے جمال و کمال کے ساتھ آخرت میں ظہور فرمائے گا مگر حال یہ ہوگا کہ بہت سے لوگ وہاں کھڑے ہوں گے مگر وہ اپنے اندھے پن کی وجہ سے اس کو دیکھنے کی سعادت نہیں پائیں گے۔ اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی کے ریڈنگ روم میں مختلف زبانوں کے کئی پرچے دیکھے ریاض کے عربی ہفت روزہ المسلمون (۲۴ دسمبر ۱۹۹۳) کے آخری صفحہ پر ایک خبر تھی جس کا عنوان تھا: الآلاف دخلوا الاسلام (ہزاروں آدمی اسلام میں داخل ہو گئے)۔ ڈاکٹر صلاح الصاوی (استاذ جامعۃ الازہر) کے حوالے سے ایک رپورٹ تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی فوجیوں کی پانچ ہزار تعداد اسلام میں داخل ہو گئی۔ یہ خلیج کے بحران کے دوران اس وقت ہوا جب کہ امریکی فوجیوں اور سعودی نوجوانوں کے درمیان اختلاط ہوا : ان أعدادا كبيرة قيل إنها ٥٠٠٠ جندى قد دخلوا الاسلام حينما اتیح لهم الاختلاط بالشباب السعودی۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں مجھے بہت زیادہ تشویش ہے۔ وہ مظلوم ہیں۔ وہ نصف صدی سے زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان جا کر ان کی خدمت کروں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ وہاں جا کر انہیں یہی سبق دینا چاہتے ہیں کہ تم مظلوم ہو تو آپ خود ان کے اوپر سب سے بڑا ظلم کریں گے۔ کیوں کہ کسی قوم کو مظلوم و مقہور بتانا ، اور اس کو شکست کے احساس میں مبتلا کرنا گویا نفسیاتی اعتبار سے اس کو قتل کرنا ہے۔ کسی قوم کو آپ احساسِ یافت پر کھڑا کر سکتے ہیں، احساس محرومی پر کسی قوم کو کھڑا کرنا ممکن نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسلم ممالک ہندوستان میں اپنے مسلم بھائیوں کا کوئی خیال نہیں کرتے جیسا کہ انھیں کرنا چاہیئے : Muslim countries do not care about their Indian Muslim brothers as they should.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page