Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 533

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ اس سے آپ کا مطلب اگر یہ ہے کہ مسلم ممالک ہمارے بارے میں بیانات دیں اور حکومت ہند سے مطالبات کریں تو ایسا کرنا ہرگز ہندوستانی مسلمانوں کی کوئی خدمت نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہوگا اور ہمارے مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل خود ہندوستانی مسلمانوں کو دانشمندی کے ساتھ حل کرنا ہے۔ باہر سے اس کا کوئی حل امپورٹ نہیں کیا جاسکتا۔ جناب صفی قریشی صاحب نے بتایا کہ ۱۹۸۳ میں جب کہ رونالڈ ریگن امریکہ کے پریذیڈنٹ تھے، مسٹر کرین (Robert Crane) کو عرب امارات کا سفیر بنایا گیا۔ ان کے کاغذات جب مخصوص کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے دیکھا کہ مذہب کے خانہ میں ان کے فارم میں اسلام لکھا ہوا ہے۔ انھوں نے دراصل کچھ پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کا اسلامی نام فاروق عبد الحق تھا۔ کمیٹی کے ارکان کو اس پر اعتراض ہوا۔ اس وقت کمیٹی کے ایک سینئر ممبر مسٹر ریمزے کلارک (Ramsey Clarke) نے اس تقرر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ مسلم ملک میں ایک مسلم سفیر بھیجے : It is time that America should send a Muslim Ambassador to a Muslim country. ڈاکٹر سلمان ندوی (پیدائش ۱۹۳۳) مولانا سید سلیمان ندوی کے صاحبزادے ہیں۔ تقسیم کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ کراچی چلے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار انھوں نے مولانا سید سلیمان ندوی سے پوچھا کہ آپ کانگریس ہیں یا مسلم لگی۔ سید صاحب نے جواب دیا: دماغ سے کانگریس ہوں مگر دل سے مسلم لیگی ہوں۔ ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ان کے علمی استاد مولانا شبلی نعمانی کا تعلق کانگریس سے تھا، اور ان کے مرشد مولانا اشرف علی تھانوی کا جھکاؤ مسلم لیگ کی طرف تھا۔ اس لئے دل مسلم لیگ کی طرف مائل ہے۔ میرے نزدیک یہ اکابر پرستی ہے۔ اسی اکابر پرستی نے موجودہ زمانہ میں مجتہدانہ طرز فکر کا دروازہ مسلمانوں کے اوپر بند کر دیا۔ ڈاکٹر سلمان ندوی نے بتایا کہ ۱۹۰۶ میں ندوہ (لکھنو) کا دستار بندی کا جلسہ تھا۔ اسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page