Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 536

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۷ دسمبر کو نمازِ عشاء کے بعد اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں خطاب تھا۔ میں نے کہا کہ امریکہ میں اور دوسرے مغربی ملکوں میں جو مسلمان آباد ہیں ان سے گفتگو کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان کا سب سے بڑا کنسرن آئیڈینٹی ہے۔ مگر آئیڈینٹی پر زور دینے سے آئیڈینٹی قائم نہیں ہوسکتی۔ آدمی کا نیچر یہ ہے کہ وہ اسی چیز کو لیتا ہے جو اس کو برتر دکھائی دے۔ اس لئے آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اسلام کی آئیڈیا لوجیکل سپیریریٹی کو نئی نسلوں کے دماغ میں اتاریں۔ اس مقصد کے لئے آپ کو اعلیٰ اسلامی لٹریچر کی ضرورت ہے۔ مگر یہ لٹریچر انگریزی میں موجود نہیں۔ لٹریچر اس طرح نہیں بنتا کہ کسی کو ہائیر کر کے آپ کہیں کہ تم واٹ از اسلام کے نام سے ایک کتاب لکھ دو۔ لٹریچر ہمیشہ ہسٹاریکل پراسس کے دوران بنتا ہے۔ یہ تاریخی عمل انگریزی زبان میں جاری ہو چکا ہے۔ اسی طرح اردو زبان میں بھی کئی سو سال کے عمل کے دوران کافی لٹریچر تیار ہو چکا ہے۔ اس لئے کم از کم فی الحال آپ کو یا عربی یا اردو زبان میں اپنے بچوں کو سکھانا ہوگا۔ سنجیدہ کوشش اور قربانی کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ ۲۸ دسمبر کو نماز عشاء کے بعد دوبارہ اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں خطاب ہوا۔ میں نے بعض احادیث کی روشنی میں دینی تقاضوں کی وضاحت کی۔ امریکہ میں قیام کے دوران ہر روز صغیر اسلم صاحب کے مکان پر احادیث مع تشریح ریکارڈ کرتا رہا۔ اس کا انتظام صغیر اسلم صاحب نے کیا تھا۔ برصغیر ہند سے امریکہ جانے والے لوگوں نے وہاں بہت سی چھوٹی بڑی تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں۔ انھیں میں سے ایک تنظیم وہ ہے جو امریکن فیڈریشن کہی جاتی ہے : American Federation of Muslims from India, 29008-W, 8 Mile Road, Farmington, Michigan 48336 اس فیڈریشن کی طرف سے ۲۹۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو شکاگو میں "تھرڈ انٹرنیشنل کانفرنس" ہوئی۔ اس میں امریکہ کے علاوہ ہندوستان سے کئی ہریجن اور مسلمان مقررین شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کی تھیم یہ تھی : The Role of Muslims in the socio-economic development of India

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page