ایک سفر
Urdu book, p. 537
By Maulana Wahiduddin Khan
کانفرنس کا موضوع بظاہر یہ تھا کہ انڈیا کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں مسلمانوں کا رول۔ مگر وہاں جو تقریریں ہوئیں، اس کے لحاظ سے اس کا موضوع ہونا چاہئے تھا ــ ہندوستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں مسلمانوں کے لئے حصہ داری کی مانگ۔ تقریروں اور رزولیوشن کا خلاصہ یہ تھا کہ "ہندو نازی ازم" ختم کرو۔ مسلمانوں کو ملازمت میں اور تعلیمی داخلہ میں رزرولیشن دو۔ ایڈمنسٹریشن میں مسلمانوں کو ان کی تعداد کے بقدر حصہ دو۔ دلت مقررین نے کہا کہ بھارت میں برہمن واد کو ختم کرنے کے لئے دلت اور مسلمانوں کو ایک ہونا چاہئے وغیرہ میرے نزدیک اس قسم کی باتیں صرف نادانی کی چیخ پکار ہیں یہ ایک برائی کے جواب میں دوسری برائی کا طوفان کھڑا کرنا ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ تفریقی دہشت گردی کو ختم کر کے ملکی سطح پر ایکتا لانے کی کوشش کی جائے۔ رعایت اور ریزرویشن کے بجائے محنت اور لیاقت کے ذریعہ آگے بڑھنے کا مزاج بنایا جائے۔ رد عمل والی سوچ کو ختم کر کے مثبت اور تعمیری سوچ پیدا کی جائے۔ عجیب بات ہے کہ جو لوگ امریکہ جا کر وہاں کے نظام سے آخری حد تک موافقت کر کے رہتے ہیں، وہ وہاں سے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ٹھکر آؤ کی پالیسی برآمد کر رہے ہیں۔ اس دو عملی میں بیشتر امریکی مسلمان مبتلا ہیں۔ اس قسم کی دو عملی کی روش سطحی لیڈری ہے نہ کہ فی الواقع کوئی رہنمائی۔ ریاض کے عربی ہفت روزۃ الدعوة (۸ نومبر ۱۹۹۳ء) میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس کا عنوان تھا : عندھم کل شي إلَّا ... اس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں ہر چیز پائی جاتی ہے سوا خیر کے (فی امريكا يوجد كل شي إلا الخير)، اور پھر حدیث رسول کو امریکہ پر چسپاں کیا گیا تھا : انا برئ من مسلم يقيم بين ظہراني المشركين۔ مگر یہ دین کی صحیح تشریح نہیں۔ امریکہ میں بلاشبہ ایک بہت بڑا خیر ہے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو حدیث میں سرخ اونٹ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی دعوت اسلام کا کام کرنا اور خدا کے بندوں کو خدا کی رحمت کے سایہ میں داخل کرنا۔ مجھ کو اپنے سفر کے دوران کچھ سفید فام امریکنوں سے بات کرنے کا موقع ملا۔ ذاتی تجربہ کی بنا پر میرا خیال ہے کہ عام امریکی میں قبولیت کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کسی معقول بات کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader