Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت داؤد علیہ السلام کے بارہ میں ایک یہودی روایت ہے جس کا تعلق اسی عمان (عَمون) سے ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ __ داؤد نے بادشاہی محل کی چھت سے ایک عورت کو دیکھا جو نہار ہی تھی۔ وہ نہایت خوبصورت تھی۔ داؤد نے اس عورت کو اپنے محل میں بلایا اور اس سے صحبت کی۔ اس کے بعد وہ حاملہ ہوگئی۔ اب داؤد نے اس عورت کے شوہر ححتی اور یاہ کو عمون کی جنگ میں بھیج دیا اور سردار فوج سے کہا کہ اس کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے۔ چنانچہ حتی اور یاہ مار گیا اور پھر وہ عورت داؤد کی بیوی ہوگئی۔ اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ پر اس کام سے جسے داؤد نے کیا تھا خدا وند ناراض ہوا (۲۔ سموئیل باب ۱۱، حضرت داؤد کے یہی فرزند ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کہے جاتے ہیں۔ یہ لغوقصہ قرآن (ص ۲۳) کے تحت خود ہماری تفسیروں میں بھی آگیا ہے۔ مفسرین نے اس پر لمبی بحثیں کی ہیں۔ چنانچہ مستشرقین کو موقع مل گیا کہ وہ اس کو قرآن کے ساتھ منسوب کر دیں۔ ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ داؤد نے اور یا حتی کو ایک جنگ میں قلعہ کی دیوار تک بھیج دیا تاکہ وہ مارا جائے اور وہ اس کی بیوی سے نکاح کر سکیں۔ یہ وہ واقعہ مسلم کہانیوں کا بھی ایک حصہ ہے: ....the incident is also a part of Muslim folklore (1/317) عمان کی آبادی تقریباً ۶ لاکھ ہے۔ ۴۹ - ۱۹۴۸ میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان جو جنگ ہوئی، اس کے بعد فلسطینی پناہ گزیں عمان میں آنے لگے۔ ۱۹۶۷ کی جنگ کے بعد دریائے اردن کے مغرب کا پورا علاقہ اسرائیل کے قبضہ میں چلا گیا۔ اب فلسطینی پناہ گزیں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ عمان جو پہلے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا، اب بہت بڑا شہر بن گیا۔ غالباً ۱۹۶۹ کی بات ہے۔ میری ملاقات اردن کے ایک فلسطینی سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں ہماری طاقت اتنی بڑھ چکی ہے کہ ہم جب چاہیں اردن کی حکومت پر قبضہ کر لیں۔ فلسطینیوں کا یہی ذہن تناجس کی بنا پر ۷۰ ۱۹ میں فلسطینیوں اور حکومت اردن کے درمیان باقاعدہ سول وار چھڑ گئی۔ اردن نے نہایت فیاضی کے ساتھ فلسطینیوں کو پناہ مہمان بنایا تھا۔ مگر جب یہ نوبت آئی تو حکومت نے نہایت سختی کے ساتھ ان کو کچل دیا۔ حتی کہ فلسطینی کیمپوں پر بمباری کی گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page