Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی کی ایک حد ہے۔ آدمی اگر اپنی حد پر رہے تو اس کو ہر جگہ کام کے مواقع ملتے ہیں۔ اور اگر وہ اپنی حد سے آگے بڑھ جائے تو اس کو ہر جگہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، خواہ وہ کسی مسلم ملک میں ہو یا غیر مسلم ملک میں۔ عمان سے طرابلس کے لئے اردن ایئرلائنز کی فلائٹ نمبر ۴۳۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں جہاز کے اندر ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا نام ناصر عبد الفتاح عامر بتایا۔ ان کی عمر تقریباً ۲۱ سال تھی۔ ان کا خاندان ان غزه (فلسطین) میں رہتا ہے۔ فلسطین کے بارہ میں انھوں نے بہت سی باتیں بتائیں۔ آخر میں میں نے پوچھا کہ فلسطین کے مستقبل کے بارہ میں آپ کیا امید رکھتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا : تحریریں ارض فلسطین و ان اری بلادى ننعم تحت حكم اسلامى (سرزمین فلسطین کی آزاد ادبی، اور یہ کہ میں اپنے ملک کو اسلامی حکومت کے تحت خوش حال ہوتا ہوا دیکھوں) فلسطین کے مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اپنا بہت کچھ کھو دیا ہے، مگر انھوں نے اپنا حوصلہ نہیں کھویا۔ اور حوصلہ بلاشبہ کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اس جہاز میں اردن ایئرلائنز کا انگریزی میگزین رائل ونگ (Royal Wings) کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ اس میں ایک مضمون چھٹی حس (sixth sense) سے متعلق تھا۔ اس میں مختلف نمبر لکھے ہوئے تھے۔ اور ہر نمبر کو دیکھنے سے ایک متعین جواب نکلتا تھا۔ میں نے سرسری طور پر نمبر ۲ کو دیکھا۔ اس نمبر کے تحت حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے تھے: You are blessed with a remarkable ability. Your powers are alert and working for you. Don't be afraid of your “sixth sense” but explore it. میں اس قسم کی چیزوں میں عقیدہ نہیں رکھتا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس نوعیت کے مجھے کئی عجیب تجربے ہوئے ہیں۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ میں وہاں کے کتب خانہ میں مصر کا ایک عربی مجلہ المقتطف آتا تھا جس کو میں دل چسپی سے پڑھا کرتا تھا۔ ایک بار المقتطف میں اسی قسم کا ایک مضمون آیا۔ اس میں ایک طلسماتی لفظ "ابر اکادابیسن کاتن" کو پڑھ کر خاص انداز سے اپنے بارہ میں کوئی جواب معلوم کیا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں میرا امتحان قریب تھا۔ میں نے اسی کے بارے میں معلوم کیا۔ جواب آیا : ستنجح نجاحاً كبيرا (تم ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے) عجیب بات ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page