Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 539

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسا کہ مشہور ہے، کرسٹوفر کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا تھا۔ وہ ۱۲ اکتوبر ۱۴۹۲ کو امریکہ کے ساحل پر پہنچا تھا۔ اس دن اس نے اپنی ڈائری کا جو صفحہ لکھا، اس میں اس نے ۱۳۹ بار سونا کا لفظ استعمال کیا۔ اس وقت کولمبس کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت سونے کی تھی۔ کولمبس کو معلوم نہ تھا کہ چند سو سال بعد امریکہ ایک ایسے فن کا مرکز بننے والا ہے جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور وہ جدید ٹیکنالوجی ہے۔ دہلی سے ایک انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر شائح ہوتا ہے۔ یہ ریڈ کننس کا ہندو منہ ہے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ آرگنائزر ہندوؤں کا ریڈنس ہے، اور ریڈئنس مسلمانوں کا آرگنائزر۔ دونوں ہی منفی اصول صحافت پر چلائے جا رہے ہیں۔ آرگنائزر کے شمارہ ۵ دسمبر ۱۹۹۳ میں ایک مضمون اتل راوت کے قلم سے چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا ۔ اجودھیا امریکی پریس میں : Ayodhya in American Press امریکی اخباروں میں اجودھیا کے واقعات پر جو کچھ چھپا تھا اس میں انھیں برا بھلا کہتے ہوئے مضمون میں بتایا گیا تھا کہ انڈیا کی خبریں اور خاص طور پر ہندوؤں کی خبریں امریکی پریس میں، ہمیشہ غلط طور پر یا غلط رخ سے پیش کی جاتی ہیں: The news dealing with India in general and Hindus in particular is, more often than not, misrepresented and misinterpreted in American press. مضمون نگار کو مثلاً یہ شکایت تھی کہ نیو یارک ٹائمس نے اپنے شمارہ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ میں اجودھیا کے واقعہ کی رپورٹ دیتے ہوئے یہ لکھا کہ ہزاروں ہندو انتہا پسندوں نے اجودھیا میں گھس کر ۱۶ ویں صدی کی تعمیر شدہ مسجد کو ڈھا دیا۔ نیو یارک ٹائمس اجودھیا کے تنازعہ ڈھانچہ کو برابر مسجد بتاتا رہا: Consistently the New York Times had been describing the disputed structure as mosque. ٹھیک یہی ذہن مزید اضافہ کے ساتھ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم دانشوروں میں ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ نفرت کی باتیں کریں مگر دنیا اس کو محبت کا عنوان دے۔ وہ تشدد کی کارروائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page