Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 538

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کا ذہن فوراََ آجان لیتا ہے۔ سفید فام امریکیوں کے مزاج کے بارہ میں اپنے اس تاثر کا ذکر میں نے جناب صغیر اسلم صاحب سے کیا۔ جو یہاں ۳۵ سال سے رہتے ہیں، انھوں نے میرے احساس کی تصدیق کی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ہر ابر لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ امریکی روزنامہ وال اسٹریٹ جنرل (۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء) کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین مذہب کا خیال ہے کہ اسلام امریکہ میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے: Many religious experts say Islam is the fastest-growing faith in the United States. ایسی حالت میں کہنے والوں کو کہنا چاہئے کہ امریکہ میں بہت بڑا خیر موجود ہے۔ وہاں کے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچاؤ اور پھر سرخ اونٹوں کی دولت حاصل کرو۔ ایک ہندوستانی مسلمان جو اب امریکہ میں رہتے ہیں، انھوں نے شکایت کی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کے ذمہ دار آپ جیسے لوگ ہیں۔ آپ لوگ خود تو امریکہ میں یک جہتی کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں اور ہندوستان کے معاملہ میں وہاں کے استحصالی لیڈروں کی مدد کرتے ہیں جو مسلمانوں کو علیحدگی پسندی کے راستہ پر چلانا چاہتے ہیں۔ پھر میں نے ان کو مقامی اخبار آرینج کاونٹی (Orange County) کا شمارہ ۹ نومبر ۱۹۹۳ دکھایا۔ اس میں ایک مسلم لیڈر شبیر منصورسی کا ایک انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ مجھے امریکی مسلمان ہونے پر فخر ہے: I am proud to be a Muslim-American. میں نے کہا کہ ہندوستان کے لیڈر، خواہ با ریش ہوں یا بے ریش، کبھی یہ نہیں کہتے کہ مجھے ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ ایسی حالت میں اگر اکثریتی فرقہ اور مسلمانوں کے درمیان معتدل تعلقات نہ پائے جائیں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ ہیں۔ آپ لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے کچھ پسند کرتے ہیں اور خود اپنے لئے کچھ اور پسند کئے ہوئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page