Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 558

By Maulana Wahiduddin Khan

نیویارک کے مسلم اخبار منارہ (The Minaret) کے شمارہ ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ء میں بتایا گیا تھا کہ کراچی میں تعلیم کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا۔ اس میں پاکستان کی ایجوکیشن منسٹری کی طرف سے ایک پیپر پیش کیا گیا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ کم تعلیم والے ۱۲۱ ملکوں میں پاکستان ۱۱۱ ویں نمبر پر ہے: Pakistan occupies 111th position among 121 countries with the lowest literacy rates. پاکستان بننے کے بعد وہاں درجنوں مفکرینِ اسلام‘ اٹھے جن کا نعرہ تھا پاکستان میں مکمل اسلامی نظام کا نفاذ تاکہ خلافت ارضی اور قیادت عالم کا مقام پاکستان کو مل سکے۔ یہ سراسر ایک لغو نعرہ تھا۔ اور اس کی لغویت کا ثبوت یہ ہے کہ پچاس سالہ ہنگامہ آرائی کے باوجود اس کا کچھ بھی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ ان تمام اشخاص کے کرنے کا واحد کام یہ تھا کہ وہ پاکستان کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کرتے۔ اگر یہ تمام لوگ تعلیم کے میدان میں محنت کرتے تو آج یقینی طور پر پاکستان صد فی صد تعلیم یافتہ ہو چکا ہوتا اور اس کے بعد اس کے لئے ہر مقصد کو حاصل کرنا آسان ہو جاتا۔ یکم جنوری ۱۹۹۴ء کی شام کو یہاں کچھ کشمیری لیڈروں سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے کس لئے امریکہ کا سفر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کشمیری اشو کو انٹرنیشنلائز کرنے کے امریکہ آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ مومن ایک بل سے دو بار ڈسا نہیں جاتا، اور آپ لوگ بار بار کے ناکام تجربہ کے باوجود پھر اسی بل پر اپنا ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کیا مطلب۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کبھی انٹرنیشنلائزیشن سے حل نہیں ہوتے۔ سلطان ٹیپو نے دو سو سال پہلے انگریزی استعمار کے مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کیا مگر وہ مکمل طور پر ناکام رہے۔ پھر علماء نے ریشمی رومال تحریک کی صورت میں آزادی ہند کے مسئلہ کو انٹرنیشنلائز کیا مگر وہ بھی بے سود ثابت ہوا۔ پھر مسلمانوں نے فلسطین اور بوسنیا کے مسائل کو انٹرنیشنلائز کیا مگر وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اسی طرح بابری مسجد کے مقامی اشو کو نٹرنیشنلائز اور پھر انٹرنیشنلائز کیا گیا مگر بابری مسجد کو بچایا نہ جا سکا۔ پھر اب آپ کس بنا پر اس قسم کی تدبیر کے ذریعہ کامیاب ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ کشمیر میں آپ اپنے ناپختہ نوجوانوں کو ایک ریگولر آرمی سے لڑوا رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page