Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 559

By Maulana Wahiduddin Khan

آخر اس ناماوی ٹکراؤ سے آپ کس طرح فتح کی امید قائم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ لڑادے صمولے کو شہباز سے۔ میں نے کہا کہ اقبال تو ایک شاعر تھے۔ اور قرآن کے مطابق، شاعر کبھی ایک بات کہتا ہے اور کبھی دوسری بات۔ چنانچہ جس اقبال نے لڑادے صمولے کو شہباز سے کہا تھا، اسی اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ : جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر تیرا از جانح نہ ہونے سکے گا حریف سنگ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ جنگ بدر میں صرف ۳۱۳ مسلمان تھے اور وہ ایک ہزار طاقت ور فوج پر غالب آئے۔ میں نے کہا کہ جنگ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے پیشگی یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس میں فرشتے مدد کے لئے اتارے جائیں گے اور وہ مسلمانوں کے حق میں کامیابی کی ضمانت ہوں گے۔ کیا آپ لوگوں کے پاس بھی اس قسم کی کوئی وحی آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو کی یقین دہانی اور اقوام متحدہ کا رزولیوشن ریفرنڈم کے حق میں موجو دہے۔ پھر انڈیا کیوں نہیں اس مسئلہ پر ریفرنڈم کرواتا۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات محض ایک پرنسپل کی بات ہے اور متشددانہ جنگ میں لفظی پرنسپل کا حوالہ کوئی قیمت نہیں رکھتا۔ پرنسپل پر امن لڑائی میں طاقت کا کام کر سکتا ہے مگر متشددانہ لڑائی میں وہ ہرگز کسی کے لئے کوئی طاقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ انڈیا ہمارے اوپر کتنا زیادہ ظلم کر رہا ہے۔ اس نے ہمارے عزت داروں کو بے عزت کیا۔ اس نے کشمیری سماج کو تباہ کر دیا۔ میں نے کہا کہ قرآن میں حکم ہے کہ دشمنی میں بے انصاف نہ بن جاؤ بلکہ ہمیشہ انصاف کی بات کہو۔ آپ جس ظلم کا حوالہ دے رہے ہیں وہ ۱۹۸۹ کے بعد پیش آیا ہے جب کہ آپ نے سری نگر کی سرکاری عمارتوں پر بم مارا اور اس طرح تشدد اور جوابی تشدد کی سیاست کشمیر میں چلائی۔ ۱۹۸۹ سے پہلے انڈیا کی فوج کشمیر میں تھی مگر اس نے کبھی بھی کشمیری آبادیوں پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ قرآن میں ملکہ سبا کے قصہ کے ذیل میں بتایا گیا ہے کہ جب تم بادشاہوں کے خلاف جنگی اقدام کروگے تو وہ تمہاری بستیوں میں داخل ہو کر فساد کریں گے اور عزت داروں کو بے عزت کریں گے۔ اس لئے تم بادشاہوں کے خلاف اس قسم کا اقدام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page