Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد امتحان ہوا تو میں پورے درجے میں اول آیا۔ اس وقت ہمارے درجے میں غالب ۴۴ طالب علم تھے۔ اردن ایئر لائنز کا عربی میگزین " الاجنحة " کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ آزار ۱۹۹۰ء (صفحه ۵۸) میں ایک عرب خاتون یمانبیل کا ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا: غرناطۃ الفردوس المفقود (غرناطہ ، فردوس گم شده) موصوفہ سیاح کے طور پر غرناطہ گئیں۔ وہاں انھوں نے عرب عہد کے آثار کو دیکھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ غرناطہ میں میں نے عرب تاریخ کو اپنے سامنے پایا اور اپنے ماضی کی عظمت کا مشاہدہ کیا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر وہ رو پڑیں۔ وہ وہاں کے ایک ایک پتھر سے پوچھتی رہیں کہ یہاں عرب کی عظمت تھی اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع ہوئیٔ رھنا كان المجد العربی وهـــــنـــا ايضا يبدأ الذل العربي قبل خمس مائة عام وہ جذباتی انداز میں لکھتی ہیں کہ عربوں نے یہاں اپنے قلعوں اور محلوں اور مسجدوں کو چھوڑ دیا۔ وہ اس شہر سے عورتوں کی طرح روتے ہوئے نکلے۔ وہ مردوں کی طرح اس کی حفاظت نہ کر سکے (ترکوا قلعــهـم وقصـــورهـم ومسـاجـدهـم۔ خرجـوا من هــذا الـمـديـنـة يـبـكــون مثل النساء۔ ملكالم يمافظوا عليه مثل الرجال۔ وخرجتُ من غرناطـــــة اطأطئ راسي ۔ وساأل نفسي الى متى سيستمر هذا الليل العربى وماذا سيكتب التاريخ عنا) عرب خاتون نے اپنے اس تاثراتی جملہ میں غرناطہ کے آخری سلطان کی ماں کے قول کو دہرایا ہے۔ مگر یہ سادہ معنوں میں مرد اور عورت کا مسئلہ نہیں ۔ یہ قومی استعداد کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۹۷ء میں ٹیپو مرد کی جنگ لڑے مگر وہ ہار گئے ۔ ۱۹۷۱ء میں اندر اگا نڌھی ایک عورت تھی مگر وہ پاکستان کے مقا بلہ میں جیت گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرد اور عورت کا معاملہ نہیں ، بلکہ قومی استعداد اور حالات کا معاملہ ہے۔ اگر حالات موافق نہ کر رہے ہوں تو کوئی شخص خواہ کتنی ہی زیادہ بہادری کے ساتھ لڑے، وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ جہاز کا بیشتر سفرخشکی کے اوپر ہوا۔ بالائی فضا میں پرواز کرتا ہوا ہمارا جہاز ہندوستانی وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page