Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 561

By Maulana Wahiduddin Khan

سے متعلق قارئین کے خطوط شائع ہوئے تھے۔ ان خطوط میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ میں ہر دن تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ امریکی دستور کی مشہور دوسری ترمیم (second amendment) نے ہتھیار رکھنے کو ایک امریکی کا شہری حق قرار دیدیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں ایجوکیشن یا جاب حاصل کرنے سے بھی زیادہ آسان گن حاصل کرنا ہو گیا ہے۔ حتی کہ مسٹر مارک جیرول (Mark Jerol) کے الفاظ میں، امریکہ کے گن پرابلم کی وجہ سے ہم ایک زندہ جہنم (living hell) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایک جرمن متاری (Elke Zschaebitz) نے لکھا تھا کہ امریکی دنیا کی واحد قوم ہیں جو محفوظ زندگی سے بھی زیادہ گن رکھنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں: Americans are the only people who support the right to own a gun rather than the right to walk safely along the street or to feel secure in their homes. (p. 6) سان ڈیگو کے (Ray R. Dunakin III) نے لکھا تھا کہ امریکہ میں سنگین جرائم کی موجودگی کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مجرم کو سزا نہیں ملتی۔ ہم کو آج گن کنٹرول کی ضرورت نہیں بلکہ کرائم کنٹرول کی ضرورت ہے: Criminals who commit serious crimes are given light sentences and turned back onto the streets to rob or kill again and again. We don't need gun control, we need crime control. ایک فلسطینی نوجوان سے اسلامک سوسائٹی (آرینج کاؤنٹی) میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے بعد انھوں نے فرائڈ سے رپورٹ (The Friday Report) کے تین شمارے برائے مطالعہ دئے۔ یہ دار مکہ ڈینور (Denver) کی طرف سے ہر ماہ "اسلامک نیوز لیٹر" کے طور پر شائع ہوتا ہے۔ (Tel. 303-6912201) اس نیوز لیٹر کے شمارہ اکتوبر۔ نومبر ۱۹۹۳ (جمادی الاول ۱۴۱۴ھ) کے ایڈیٹوریل میں فلسطین کے حالیہ معاہدہ کو غیر نمائندہ افراد کی طرف سے فلسطین کی فروخت (sale) قرار دیا گیا تھا۔ ایک صفحہ فتاوی کا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ یہ فتاویٰ اہل السنتہ والجماعتہ کے علماء کی طرف سے دئے گئے ہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک غیر اسلامی ملک میں، ایک مسجد بیچ کر دوسری زیادہ بڑی جگہ خریدی جائے۔ اس کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ بیچنا اور جگہ کا بدلنا دونوں، جائز ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page