Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 560

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے سے پرہیز کرو۔ جب آپ نے تشددانہ اقدام کر دیا تو اس کے بعد آپ کو اس شکایت کا حق باقی نہیں رہتا کہ فریقِ ثانی آپ کے خلاف تشدد کی کارروائی کر رہا ہے۔ پھر انھوں نے افغانستان کی مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ افغانی مجاہدین ایک سپر پاور سے لڑے اور کامیاب ہوئے۔ اسی طرح کشمیری مجاہدین بھی اپنی لڑائی میں کامیاب رہیں گے۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے۔ افغانستان کی جنگ میں ایک اور سپر پاور کو کھلم کھلا پوری طرح افغانیوں کے ساتھ تھا۔ آپ کی موجودہ جنگ میں کس پاور یا سپر پاور کی حمایت اس طرح آپ کو حاصل ہے ۔ وہ کسی بھی ملک کا نام نہ لے سکے پھر انھوں نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ انڈیا کا اقتصادی ڈھانچہ ٹوٹ رہا ہے۔ انڈیا کی اقتصادی کمزوری ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ جلد ہی آپ دیکھیں گے کہ انڈیا کی اقتصادی طاقت تباہ ہوگی اور وہ کشمیر کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ یہ معاملہ دونوں فریقوں کے ساتھ ہے۔ اور اس میں اصل فیصلہ کن چیز وقت ہے۔ آپ اور انڈیا میں سے جس فریق کی اقتصادی طاقت پہلے ٹوٹے گی وہ دوسرے فریق کی جیت کا باعث بنے گی۔ ایسی حالت میں آپ کے پاس کون سی مزید دلیل ہے جس کی بنا پر آپ یہ یقین کر رہے ہیں کہ انڈیا کی اقتصادی حالت آپ سے پہلے تباہ ہو جائے گی۔ اس کا کبھی ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی نام نہاد لیڈر شپ کتنا زیادہ بے شعور ہے۔ پچھلے دو سو سال سے ایک ہی نادانی مسلمانوں کے درمیان جاری ہے۔ کچھ ناہل افراد پر جوش طور پر قیادت کے میدان میں کود پڑتے ہیں، حالاں کہ بے شعوری کے سوا ان کے پاس کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ افراد صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ خود ساختہ قائدین کے اس پورے گروہ پر انگریزی کی یہ مثل صادق آتی ہے کہ نادان لوگ وہاں گھس پڑتے ہیں جہاں فرشتے بھی قدم رکھنے سے ڈرتے ہیں : Fools rush in where angels fear to tread. ٹائم میگزین (۱۰ جنوری ۱۹۹۴ء) ۳ جنوری کی ڈاک میں ملا۔ اس سے پہلے اس کے ۲۰ دسمبر ۹۳ کے شمارہ کی کور اسٹوری امریکہ میں بڑھتے ہوئے تشدد کے بارہ میں تھی۔ موجودہ شمارہ میں اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page