Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 566

By Maulana Wahiduddin Khan

پشاور سے ہے۔ انھوں نے افغانستان کی جنگ میں عملی حصہ لیا ہے۔ وہ اس زمانہ میں افغانستان گئے تھے جب کہ روسی فوجیں واپس جا چکی تھیں مگر ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت ابھی باقی تھی۔ انھوں کہا کہ میرا یہ اررمان رہ گیا کہ اس جہاد میں مجھے کوئی زخم لگتا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ میں نے پوچھا کہ اب تو افغانستان سے روس واپس جا چکا ہے۔ اب سب کے سب افغانی لوگ وہاں ہیں۔ حتیٰ کہ حکمتیا ر اور برہان الدین دونوں مجاہدین کے سردار تھے ۔ پھر یہ باہمی لڑائی کیوں ابھی جاری ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ اقتدار لیکن اگر یہ اقتدار کی جنگ ہے تو اس سے پہلے وہاں جہاد کی جنگ نہ تھی۔ اور اگر وہ جہاد کی جنگ تھی تو اب اقتدار کی جنگ نہ ہونا چاہئے۔ ہوائی اڈہ تک ایک گھنٹہ کا سفر "فری وے" کے ذریعہ طے ہوا۔ کہیں بھی ریڈ لائٹ نہیں آئی اور نہ گاڑی روکنے کی ضرورت ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فری وے کی سڑکوں پر کراسنگ نہیں ہوتی۔ جہاں کہیں کراسنگ ہوتی ہے وہاں اوور برج بنا دیا جاتا ہے تاکہ گاڑیاں اوپر سے گزر سکیں۔ ائیر پورٹ کے پاس پہنچے تو سڑک کے اوپر رن وے بنا ہوا تھا۔ اوپر سے جہاز دوڑ رہا تھا اور نیچے سے کار۔ لاس اینجیلیز سے سوئس ایئر کی فلائٹ ، ۱۰ کے ذریعہ سفر ہوا۔ مقامی وقت کے لحاظ سے رات کو ۹ بجے جہاز یہاں سے روانہ ہوا۔ ۹۵۰ کلومیٹر کی نان اسٹاپ پرواز تھی، ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہوا یہ جہاز ساڑھے دس گھنٹہ میں نیویارک پہنچا۔ اس وقت زیورک میں شام کے ساڑھے چار بجے کا وقت تھا اور جنوری ۱۹۹۲ کی ۶ تاریخ۔ یہ سفر بہت تھکا دینے والا تھا۔ مگر نیند اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ راستہ میں بار بار گہری نیند آتی رہی اور یہ سفر باآسانی طے ہو گیا۔ راستہ میں سوئس ایئر کا فلائٹ میگزین سوئس ایئر گیٹ (جنوری ۱۹۹۲) پڑھا۔ اس کا ایک مضمون اس موضوع پر تھا کہ آسمان نیلا کیوں ہے (why is the sky blue) اس سلسلہ میں مختلف تفصیلات درج تھیں۔ زمین سے ہم سورج اور آسمان کو گیسوں کی ۵۰ کلومیٹر موٹی چادر (thick sheet) کے واسطہ سے دیکھتے ہیں جس کو فضا (atmosphere) کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page