Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 567

By Maulana Wahiduddin Khan

آسمان میں جو رنگ ہم دیکھتے ہیں وہ اسی فضا کے اوپر سورج کی روشنی کے فزیکل ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ۱۹ ویں صدی کے آخر میں لارڈ ریلیے (Lord Rayleigh) نے اس کی تحقیق کی۔ ان کی تشریح نے بتایا کہ آسمان کا نیلان ہر ایک گرام ہوا میں کئی بلین ایٹم کا نتیجہ ہوتا ہے: His explanation showed that the blueness of the sky implies many billion atoms in every gram of air. If air had no atomic structure, the sky would not scatter light. (p. 31) مضمون میں مزید بتایا گیا تھا کہ ہماری کہکشاں (Milky Way) میں ایک سو بلین ستارے ہیں۔ مزید یہ کہ اس طرح کی تقریبا ایک سو بلین کہکشائیں وسیع کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ کائنات کی یہ وسعت کتنی زیادہ عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اتنا زیادہ عظیم اس لئے بنایا تا کہ انسان خالق کائنات کی اتھاہ عظمت کا تصور کر سکے۔ ۶ جنوری کی شام کو نیو یارک پہنچا۔ یہاں مجھے اگلے جہاز کے لئے تقریباً ڈیڑھ دن ٹھہرنا تھا۔ یہاں ویزا لینا تھا۔ اس کے بعد سوئس ایئر ویز کی طرف سے ہوٹل میں قیام کا انتظام کیا جاتا۔ نیو یارک کا ایئر پورٹ بہت بڑا ہے اور ہر ادھر سے اُدھر جانا، اس کا ونٹر سے اس کا ونٹر پر کھڑا ہونا میرے بس میں نہیں۔ میں نے ایئر پورٹ کے ایک نوجوان مسٹر اوور ایگیٹر (Ouver Aegeter) سے کہا۔ انھوں نے میرا ٹکٹ اور پاسپورٹ لیا۔ سارے کام خود ہی کرائے۔ اس کے بعد ایئر پورٹ کے اندر چلنے والی مخصوص کھلی کار میں بٹھا کر وہاں پہنچا دیا جہاں مجھ کو ٹھہرنا تھا۔ ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے ان کا نام پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ میرے ہی کمپلینٹ کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں میں آپ کی تعریف کرنے کے لئے آپ کا نام پوچھ رہا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے ایک کاغذ پر اپنا پورا نام لکھ کر دیا۔ نیو یارک ایئر پورٹ پر اتفاقاً ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ کیپٹن پی کے سنگھل تھے۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں (5592315 .Tel) اور انڈین لائنز میں پائلٹ ہیں۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ میں حسب عادت ہوا بازی کے متعلق سوالات کرتا اور وہ ہر سوال کا جواب دیتے رہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ پرواز کے دوران کسی پائلٹ کے لئے سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال کون سی ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا۔ جب آپ کو رن وے نہ ملے لینڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page