Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 570

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں بتایا گیا تھا کہ زمین سے جب ہم آسمان کو دیکھتے ہیں تو ہمارا یہ مشاہدہ براہ راست نہیں ہوتا بلکہ ۵۰ کلومیٹر موٹی چادر درمیان میں حائل ہوتی ہے جو مختلف قسم کی گیسوں سے بھری ہوئی ہے۔ آسمان کا نیلا رنگ جو ہم زمین سے دیکھتے ہیں وہ اسی درمیانی چادر میں ہونے والے طبعیاتی ردعمل (physical reaction) کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آسمان کا نیلاپن ہر ایک گرام ہوا میں اربوں ایٹم کی موجودگی کا نتیجہ ہے: The blueness of the sky implies many billion atoms in every gram of air. رنگ کی مختلف قسموں میں سے آسمان کے لئے نیلے رنگ کا انتخاب ایک اعلیٰ ذہانت کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ اس سے بہتر کوئی رنگ تصور میں نہیں آتا۔ اسی طرح زمین پر سبزہ کے لئے ہرے رنگ کا انتخاب آخری اعلیٰ انتخاب ہے۔ اگر آدمی صرف ان دو رنگوں پر غور کرے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوگا کہ اس کائنات کے پیچھے ایک خدائی ذہن کارفرما ہے۔ کیوں کہ ایک برتر خدائی ذہن کے بغیر اس قسم کا آخری بہتر انتخاب ممکن ہی نہیں۔ ۴ جنوری ۱۹۸۴ کی دوپہر کو سوئس ایئر کی فلائٹ ۱۴۲ کے ذریعہ میں نیویارک سے دہلی کی طرف جا رہا تھا۔ جہاز روانہ ہوا تو کپتان کی طرف سے اعلان ہوا کہ آپ جس جہاز پر سوار ہیں وہ انتہائی ترقی یافتہ مواصلاتی نظام سے لیس ہے۔ آپ جہاز کے اندر سے کسی بھی وقت کسی بھی مقام کے لئے ٹیلیفون کر سکتے ہیں۔ راستہ میں انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹریبیون (۴ جنوری ۱۹۹۳) پڑھا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ موجودہ امریکی صدر بل کلنٹن کی والدہ کیلی (Virginia Kelley) ۷۰ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ انھوں نے تین نکاح کئے ۔ پہلے شوہر کا انتقال کار ایکسیڈنٹ میں ہوگیا۔ یہ حادثہ مستقبل کے صدر امریکہ کی پیدائش سے چار ماہ پہلے پیش آیا: He died in a car accident about four months before the future president was born جہاز دہلی کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ہندوستانی وقت کے لحاظ سے رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page