ایک سفر
Urdu book, p. 576
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر عین اس کے درمیان اللہ کا ایک بندہ سراپا اضطراب بنا ہوا ہے۔ اس کے سینہ میں بے چینی کا طوفان برپا ہے۔ کوئی راحت اس کے لئے راحت نہیں، سکون کی کوئی چیز اس کے لئے سکون بخش نہیں۔ اس انتہائی فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ جہاز کے سامان پر ہے، اور اس بندہ خدا کی نگاہ جہاز کی غیر محفوظیت (Vulnerability) پر ۔ کیوں کہ جہاز کے اندر خواہ عیش و عشرت کا کتناہی زیادہ سامان جمع کر دیا جائے، یہ حقیقت اپنی جگہ باقی رہتی ہے کہ وہ آخری حد تک غیر محفوظ ہے۔ کوئی بھی اتفاقی حادثہ حتی کہ فضا میں اڑتے ہوئے ایک گدھ کا اس سے ٹکر اجانا بھی پورے جہاز کی کامل تباہی کے لئے کافی ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خود موجودہ زمین کے اوپر انسان کا ہے۔ ہر آدمی یہاں اپنے لئے ایک کامیاب زندگی بنانے میں مصروف ہے۔ اگر جائز طریقے سے اس کے حوصلے پورے نہ ہو ر ہے ہوں تو وہ نا جائز طریقوں سے اپنے مقاصد کو سمیٹ لینا چاہتا ہے۔ کسی کو بھی اس حقیقت کی خبر نہیں کہ اس کے راحت کدہ سمیت پورا کرۂ ارض ہر آن ایک بھونچال کی زد میں ہے۔ نو گھنٹہ کی پرواز میں ۶۸۱۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ہمارا جہاز فرینکفرٹ پہنچا۔ یہ ہمارے سفر کی پہلی منزل تھی۔ ہندوستانی وقت کے لحاظ سے اس وقت ۱۱ فروری کے ساڑھے سات بجے کا وقت تھا، یہاں باہر کا ٹمپریچر چار ڈگری سلسیس تھا۔ ہر طرف بادل چھائے ہوئے تھے۔ اور بارش کا پانی جگہ جگہ دکھائی دے رہا تھا۔ جہاز کا پورا عملہ یہاں اتر گیا۔ اور دوسرا عملہ اس کی جگہ آگیا۔ فرینکفرٹ جرمنی کا صنعتی شہر ہے۔ فرینکفرٹ کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک عظیم اور خوبصورت شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ جرمنی کی ترقی کی ایک علامت ہے۔ مگر اس ترقی کے پیچھے بہت سی نا خوشگوار باتیں چھپی ہوئی ہیں۔ انہی میں سے ایک بے روزگاری ہے۔ ۸ فروری ۱۹۹۴ کو حکومت جرمنی کی طرف سے جو اعداد و شمار بتائے گئے ہیں ان کے مطابق اس وقت جرمنی میں بے روزگاروں کی تعداد چالیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ انسانی صنعت کی ترقی اپنے ساتھ بہت سی نا پسندیدہ چیزیں لاتی ہے۔ مثلاً فضائی آلودگی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader