ایک سفر
Urdu book, p. 577
By Maulana Wahiduddin Khan
بے روزگاری ، وغیرہ ۔ مگر اسی دنیا میں بہت بڑے پیمانے پر خدائی صنعت قائم ہے اور وہ کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ آدمی اس حقیقت پر غور کرے تو بے اختیار وہ پکار اٹھے گا: فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔ 2 فروری کی شام کو جہاز ابھی فرینکفرٹ میں کھڑا ہوا تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا تو ہر طرف اندھیرا دکھائی دیا۔ میں نے سمجھا کہ سورج ڈوب چکا ہے۔ چنانچہ میں نے وضو کر کے مغرب کی نماز پڑھ لی۔ اس کے چند منٹ بعد جہاز اڑ کر اوپر فضا میں پہنچا تو اچانک نظر آیا کہ سورج آسمان میں چمک رہا ہے۔ یہ معاملہ گہرے بادلوں کی وجہ سے پیش آیا۔ چنانچہ ہمارے نیچے بھورے رنگ کے بادلوں کی گہری تہ جمی ہوئی تھی۔ اوپر دن کا سماں تھا اور نیچے رات کا سماں۔ انسان کا مشاہدہ اکثر حالات میں کتنا زیادہ ناقص ہوتا ہے۔ فرینکفرٹ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قیام کے بعد آگے کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ نسبتاً مختصر سفر تھا۔ جلد ہی ہمارا جہاز پیرس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ یہاں میں ایئر انڈیا کے جہاز سے اتر کر باہر آگیا۔ کیوں کہ یہاں سے مجھے دوسرا جہاز لینا تھا۔ فرینکفرٹ سے پیرس کا سفر ۷۵۷ کلومیٹر کا تھا جو ایک گھنٹہ میں طے ہوا۔ ایئر انڈیا والوں نے دہلی سے میسیج بھیج دیا تھا۔ چنانچہ میں جہاز سے باہر نکلا تو جہاز کے دروازہ پر ہی ایک فرانسیسی خاتون مجھے گائیڈ کرنے کے لئے موجود تھیں۔ ان کے ساتھ کاؤنٹر پر آیا۔ کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ہوئی لیڈی نے پوچھا، کیا آپ کے پاس فرانس کا ویزا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ اس کے بعد میں نے پاسپورٹ نکال کر دکھانا چاہا تو اس نے فوراً کہا کہ بس، آپ کا کہہ دینا کافی ہے۔ یہ غیر ملک کا حال ہے۔ مگر یہی اعتماد خود اپنے ملک میں ہم کو حاصل نہیں۔ نئے ایئر پورٹ پر، ہمیشہ کئی مراحل ط طے کرنے ہوتے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے ہر کام بالکل مشین کی طرح انجام دیا۔ مجھے خود کچھ نہیں کرنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں جو اخلاقیات ہیں ، اس کا راز کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ یہ "مشین" کی روایات کا نتیجہ ہے۔ پچھلی صدیوں میں ان قوموں میں مشینی سائنس کا عمل بہت بڑے پیمانے پر ہوا۔ اس کے دوران یہاں حقیقت پسندی اور واقعیت کی مشینی روایات قائم ہوگئیں جو اب تک چلی جارہی ہیں۔ صنعتی ملکوں کی اخلاقیات دراصل مشینی کارکردگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader