Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

امارنچ کو میں نے فجر کی نماز دہلی کے ہوائی اڈہ پر پڑھی تھی۔ اسی دن میں عصر کی نماز کے وقت طرابلس کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ موجودہ زمانہ میں تیز رفتار سوار یوں نے سفر کے معاملہ کو کتنا زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ ہوائی جہاز اپنے اندر سبکدوش مسافروں کو بیٹھا کر ہوا میں اڑتا ہے اور خشکی اور پہاڑ اور سمندر کی ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے نہایت تیز رفتاری کے ساتھ لوگوں کو ان کی منزل پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ کتنا حیرت ناک واقعہ ہے۔ آج بے شمار لوگ اس سفری سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مگر ان میں شاید ہی کوئی ہو جس کا حال یہ ہو کہ خدا کی اس عظیم نعمت کو سوچ کر اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ استعجاب (awe) کے سمندر میں غرق ہو کر کہہ اٹھے : فبأی آلاء ربکما تكذبان۔ فلپائن کے ایک صاحب (احمد نوح) سے ائیر پورٹ پر ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے بتایا کہ فلپائن میں سات ملین مسلمان ہیں۔ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پیچھے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے بیان کے مطابق سارے فلپائن میں ایک بھی مسلمانوں کا پریس موجود نہیں ۔ فلپائن کے ایک علاقے میں مسلمان آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس تحریک آزادی کے لیڈر پہلے صرف مسٹر نور میسوری تھے۔ ہاشم سلامات ان کے نائب تھے۔ اب دونوں میں سخت اختلاف ہو گیا ہے۔ دونوں الگ الگ اپنی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ احمد نوح صاحب دونوں لیڈروں سے ملے۔ انھوں نے نور میسوری سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی سیاست کو نہ بدلا تو انقلاب ناکام ہو جائے گا۔ (إن لم تغير سياساتك الآن فالثورة ستفشل) مگر دونوں کو متحد کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ کیا کہ فلپائن کے دونوں لیڈر اگر چہ اپنے اختلاف اور علیحدگی کے لئے اصولی الفاظ بولتے ہیں، مگر اصل یہ قیادت کا جھگڑا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ وہی جھگڑا ہے جو ہندوستان سمیت تمام ملکوں میں پیش آ رہا ہے۔ لوگ اسلام کے نام پر اٹھتے ہیں۔ کام شروع کرتے ہیں۔ مگر جلد ہی بعد ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کی سرگرمیاں حقیقۃً اسلام کے لئے ہوتیں تو اختلاف کے وقت ایک شخص پیچھے ہو جاتا اور پھر اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ مگر جب اصل مقصد لیڈری ہو اور اسلام کا نام محض نعرہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page