Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

پیش آتا ہے۔ طرابلس میں میرا قیام فندق المھاری (کمرہ ۱۳۷) میں تھا۔ یہ ہوٹل بحر روم کے کنارے پر واقع ہے۔ ایک طرف خشکی کے مناظر ہیں، اور دوسری طرف سمندر کی موجیں حد نظر تک متحرک نظر آتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب احسان ہے۔ انسان کو پانی کی ضرورت تھی۔ پانی کو اگر سطح ارض پر پھیلا دیا جاتا تو انسان کے لئے رہنے کی جگہ باقی نہ رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں بڑی بڑی گہرائیاں پیدا کیں اور ان میں پانی کو بھر دیا۔ مزید یہ کہ اس پانی میں نمک کا جز شامل کر دیا تا کہ وہ کبھی خراب نہ ہونے پائے۔ اس سمندر کے بے شمار فائدے ہیں جن کو کسی انسائیکلو پیڈیا میں بھی شمار کرنا ممکن نہیں۔ آدمی اگر اس معاملہ کا احساس کرے تو اس کے سینہ میں وہی تلاطم مزید شدت کے ساتھ پیدا ہو جائے جو سمندر کی سطح پر ہر آن جاری رہتا ہے۔ اس ہوٹل میں ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے عین سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک خوبصورت مسجد تھی۔ اذان کی آواز کمرہ تک پہنچتی تھی۔ اور یہ ممکن تھا کہ آسانی وہاں جا کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاسکے۔ دنیا کے ساتھ دین کا یہ جوڑ اگر مسلمان کی پوری زندگی میں آجائے تو زندگی ہر اعتبار سے کتنی بہتر ہو جائے۔ سفر کے دوران ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمانہ میں جو نئے وسائل انسان کے قبضہ میں دئے ہیں، وہ ابھی تک دین کی اشاعت کے لئے استعمال نہ ہوسکے۔ مثال کے طور پر ہوائی جہاز نے سفر کو کتنا زیادہ تیز رفتار بنا دیا ہے، مگر وہ عام طور پر صرف دنیوی اغراض کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ مذکورہ بزرگ نے ایک عالمی تحفظ نبوت کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا کس طرح کہتے ہیں۔ دیکھئے فلاں مقام پر مسلمانوں نے بڑے پیمانہ پر تحفظ نبوت کانفرنس کی۔ اس میں ساری دنیا کے مسلم علماء جمع ہوئے۔ اگر ہوائی جہاز کا استعمال نہ کیا جاتا تو اتنی وسیع انداز کی عالمی کانفرنس منعقد کرنا ممکن نہ ہوتا۔ میں نے کہا کہ تحفظ نبوت کانفرنس کو میں کوئی اسلامی کام نہیں سمجھتا۔ اس پر وہ حیرت میں پڑ گئے۔ میں نے کہا کہ اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری تو خود خدا نے لے لی ہے۔ اس دین کو لانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page