ایک سفر
Urdu book, p. 580
By Maulana Wahiduddin Khan
لے کر اس کے سامنے بولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ بس اپنے ٹیلی فون سے بول کر کہیں گے کہ مجھے فلاں سے بات کرنا ہے۔ وہ اپنے آپ اس کا نمبر معلوم کر کے اس کو ڈائل کرے گا اور پھر صرف بول کر آپ کی اس سے گفت و شنود شروع ہو جائے گی۔ گویا کار چلاتے ہوئے آپ کو اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ آپ دھیرے سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اپنا موبائل ٹیلیفون ڈائل کریں۔ کویت کے عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (رمضان ۱۴۱۴ھ، فروری ۱۹۹۴ء) میں ایک عربی مقیم پریس کا مضمون (رمضان فی فرنسا) چھپا تھا۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ فرانس کے مسلمان طرح طرح کے باہمی اختلافات میں مبتلا ہیں۔ مثلاً فرانس میں دو بڑی مسلم تنظیمیں ہیں، اتحاد المنظمات الاسلامیہ اور المھد الاسلامی مسجد باریں ۔ رویت ہلال کے بارہ میں دونوں کے اعلانات اکثر مختلف ہوتے ہیں۔ چنانچہ بعض اوقات یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ ایک ہی مسجد میں کچھ لوگ روزہ دار ہیں اور کچھ لوگ بے روزہ دوترى احياناً في المسجد الواحد قوماً صائمين وآخرين مفطرين، اس صورتحال نے اغیار کی نظر میں اسلام کو مذاق بنا دیا ہے۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً پانچ ملین ہے۔ ان مسلمانوں کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ وہ دین رحمت کے داعی بنتے مگر نام نہاد انقلابی لیڈر انھیں اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کے راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ مکہ کے ہفت روزہ اخبار العالم الاسلامی (۲۲ جنوری ۱۹۹۴ء) کے انگریزی صفحہ پر ایک رپورٹ فرانس کے بارہ میں ہے، اس میں یہ الفاظ درج ہیں: Some fanatic and fundamentalist Muslims are harming Islam more than the Christians. پچھلے دنوں یہ خبر تمام دنیا کے مسلم اخباروں میں چھپی تھی کہ فرانس کے ایک شہر (Namuta) کے اسکول (Xavier Bichat High School) میں مراکو کی دو لڑکیوں فوزیہ (۱۱ سال) فاطمہ (۱۳ سال) کو نکال دیا گیا۔ ان لڑکیوں کو اسکول کی طرف سے ستمبر ۱۹۹۳ میں یونیفارم دی گئی تھی کہ وہ سر پر اسکارف باندھ کر اسکول نہ آئیں۔ مگر ان لڑکیوں نے اپنے باپ کی ہدایت پر اس سے انکار کر دیا۔ یہ معاملہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ ۵ نومبر ۱۹۹۳ کو ان لڑکیوں کو اسکول سے خارج کر دیا گیا۔ جس طرح اسکارف کے معاملہ میں مسلمانوں کا نقطۂ نظر مغرب کے خلاف ہے، اسی طرح ٹی وی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader