Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 579

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرکار گاڑی ہِلٹن ہوٹل کے سامنے رکی۔ ریسپشن نے ضروری کارروائی کی۔ انہوں نے ہی ایئر انڈیا کی طرف سے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا۔ اس کے بعد ہوٹل کے ایک آدمی نے مجھے کمرہ نمبر ۲۲ میں پہنچا دیا۔ رات کے کھانے کے لئے یہاں کے مطعم میں گیا۔ طرح طرح کے کھانے تھے مگر سب فرانسیسی انداز کے تھے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کھاؤں۔ مشکل سے تھوڑا سا کھایا اور کمرہ میں واپس آگیا۔ افروزی کو عشاء کی نماز ہِلٹن ہوٹل کے کمرہ میں پڑھی۔ ہوٹل کا میگزین ہِلٹن گیسٹ دیکھتے ہوئے اس کے ایک صفحہ پر نظر پڑی۔ اس میں عالمی بینکنگ کے ایک ادارہ کا اشتہار تھا۔ پہاڑی کے پس منظر میں بنی ہوئی ایک وسیع بلڈنگ کی تصویر تھی۔ بتایا گیا تھا کہ ہمارے دفاتر ہر جگہ اور ہر شہر میں موجود ہیں۔ اس کے نیچے جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا ۔ آپ جہاں بھی ہوں آپ ہم سے زیادہ دور نہیں ہیں: Wherever you are, you are never far from Credit Suisse. میں نے سوچا کہ یہ الفاظ زیادہ صحیح طور پر آخرت کے معاملہ پر چسپاں ہوتے ہیں۔ انسان جہاں بھی ہو، وہ ہر لمحہ آخرت کی دنیا میں کھڑا ہو اہے۔ کسی بھی لمحہ دروازہ کھلے گا اور وہ اچانک اس کے اندر داخل ہو جائے گا۔ فرانس اور انگلینڈ کے درمیان انگکش چینل حائل ہے۔ دونوں کو ملانے کے لئے اس سمندر ہی حصہ کے نیچے لمبی سرنگ (tunnel) بنائی جارہی ہے۔ ابتداً اس کا کام ۱۸۸۰ء میں شروع ہوا۔ مگر اس کے بعد یہ کام رک گیا۔ دوبارہ یہ کام ۱۹۸۵ء میں شروع ہوا۔ یہ کام انگلینڈ اور فرانس کی حکومتوں کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔ اس کا نام یورپی سرنگ (Eurotunnel) ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کی تکمیل میں ۵۵ سال لگ جائیں گے۔ اس کے بعد ایک کار صرف ۳۵ منٹ میں فرانس سے انگلینڈ پہنچ جائے گی جبکہ سمندری کشتیوں کے ذریعہ ادھر سے اُدھر پہنچنے میں تقریباً ۵۰ منٹ لگتے ہیں۔ زیر تعمیر سرنگ تقریباً دو ہزار میٹر لمبی ہوگی۔ وہ جدید ترین ٹکنیک کے ذریعہ تیار کی جارہی ہے۔ مغربی ملکوں میں مسلسل نئی ریسرچ ہوتی رہتی ہے۔ جاپان میں یہ مشینی طریقہ رائج ہو چکا ہے کہ ایک آدمی اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو استعمال کے بغیر آواز کو پہچاننے والے مخصوص کمپیوٹر (voice-recognising computer) کے سامنے اپنا خط ڈکٹیکٹ کرتا ہے اور وہ اپنے آپ اس کو ٹائپ کرتا چلا جاتا ہے۔ اب ایسے ٹیلیفون بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں رسیور کو ہاتھ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page