Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 585

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ہر چیز کا ہے، حتی کہ گھاس اور مکھی جیسی چیزوں کا بھی۔ ہر چیز بے شمار عناصر کا مجموعہ ہے۔ اس میں سے کچھ کو ہم اپنی زبان میں کسی حد تک بتاتے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ ہر چیز میں کچھ اور عناصر ہیں جن کو انسانی زبان میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹ্রিبیون (۱۲-۱۳ فروری ۱۹۹۲) کا پیرس ایڈیشن دیکھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت بوسنیا کی جنگ کو روکنے کے لئے فوجی اقدام کیا ہے۔ آج کے اخبار میں کئی خبریں اور تصویریں اس کے بارہ میں تھیں۔ ایک رپورٹ میں اس علاقہ کے لوگوں کے تاثرات نقل کئے گئے تھے۔ بوسنیا کے ایک ۵۸ سالہ مسلمان (Ferid Hodzic) نے کہا کہ پچھلے دو دن سے میں محسوس کر رہا ہوں جیسے کہ جنگ ختم ہوگئی اور سرا جیبو میں امن واپس آرہا ہے: The last two days, I have been feeling like the war is over and peace is returning خدا کرے کہ بوسنیا ہر زبے گودینیا میں جنگ کی تباہ کاری ختم ہو جائے اور وہاں دوبارہ امن کا دور آجاۓ۔ پیرس سے کیسا بلانکا جاتے ہوئے میری سیٹ کے قریب ایک تندرست فرانسیسی بچہ تھا۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ایسا انسان بھلا ارتقا کے بے شعور طبیعی قانون کے ذریعہ کیسے بن سکتا ہے۔ ارتقا، تو ایک مفروضہ اندھا قانون ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور ذہین وجود ہے۔ سارے انسان مل کر بھی گھاس کی ایک پتی کی تخلیق نہیں کرسکتے۔ پھر اگر ایک معلوم وجود تخلیق کی قدرت نہیں رکھتا تو ایک نامعلوم وجود اتنے عظیم اور اتنے با معنی عالم کو کس طرح پیدا کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارتقاء کا نظریہ بے معنی الفاظ کے مجموعہ کے سوا اور کچھ نہیں ۔ پیرس سے کیسا بلانکا کا سفر ڈھائی گھنٹہ کا تھا۔ اس دوران جہاز نے ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کیا۔ میں کل ایشیا سے روانہ ہوا تھا۔ پھر میں یورپ پہنچا۔ اور اب میں افریقہ کی زمین پر پہنچ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ مجموعی مدت پرواز کے لحاظ سے اس سفر میں ساڑھے بارہ گھنٹے صرف ہوئے۔ کیسا بلانکا میں وزارة الاوقاف والشئون الاسلامیہ کے نمائندہ کے طور پر ایک صاحب موجود تھے۔ ائیر پورٹ سے ان کے ساتھ رباط کے لئے روانہ ہوا۔ تقریباً ایک سو کلومیٹر کار راستہ شروع سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page