ایک سفر
Urdu book, p. 586
By Maulana Wahiduddin Khan
لے کر آخر تک نہایت شاندار ہے۔ عمدہ سڑک کے دونوں طرف سر سبز ہر ماحول دور تک پھیلا ہوا تھا۔ مراکو کے اوپر سے سیاسی اقتدار اگر چہ ختم ہو گیا۔ مگر فرانس کا اقتصادی غلبہ مراکو کے اوپر بدستور باقی ہے۔ اس کا اندازہ مجھے مراکو میں داخل ہونے سے پہلے اس وقت ہوا جب کہ جہاز کے اندر ایمباریکیشن / ڈس ایمباریکیشن فارم پر کرنے کے لئے دیا گیا۔ اس فارم کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ فرانس میں چھپا ہوا (Printed in France) قدیم زمانہ میں کسی ملک سے سیاسی اقتدار ختم ہونے کے بعد ناممکن ہو جاتا تھا کہ اس کو دوسرے سے قائم رکھا جا سکے۔ مگر آج صنعتی ترقی کے بعد ایسا کرنا عین ممکن ہو گیا ہے۔ رباط میں میرا قیام ہوٹل (Hyatt Regency) کے کمرہ نمبر ۷ ۳۰ میں تھا۔ یہاں میں نے ۱۳ فروری کو رمضان ۱۴۱۳ھ کا پہلا روزہ رکھا۔ ایک عرب نوجوان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ روزہ کا مقصد انسان کو یہ بتانا ہے کہ دنیا میں جو چیزیں ہیں ان سب کا مالک خدا ہے ، انسان کسی بھی چیز کا مالک نہیں۔ خدا نے اپنی اس حیثیت کو بتانے کے لئے کھانے پینے کو بطور علامت اختیار کیا۔ روزہ کا مقصد آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرنا ہے کہ خدا یا ، تو ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ جب تو نے روکا تو میں رک گیا ، اور جب تو نے اجازت دی تو میں نے ان کو استعمال کیا۔ کیسابلانکا (عربی : الدار البیضاء) مراکو کا قدیم شہر ہے۔ اس کا یہ نام پرتگالیوں اور اسپینیوں نے رکھا تھا۔ بارھویں صدی عیسوی میں وہ صرف ایک گاؤں تھا ۔ آج وہ قاہرہ ، اسکندریہ ، بغداد کے بعد عرب دنیا کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ ۱۹۱۲ سے ۱۹۵۶ تک وہ فرانس کی ماتحتی میں رہا۔ فرانسیسی زبان اور فرانسیسی تہذیب کی چھاپ یہاں بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ رباط اٹلانٹک کے کنارے ایک قدیم شہر ہے۔ وہ مراکو کی راجدھانی ہے۔ اسپین سے جب مسلمان نکالے گئے تو ان کی بڑی تعداد اسی علاقہ میں آکر آباد ہوئی۔ ۱۹۵۶ میں وہ فرانس کے سیاسی قبضہ سے آزاد ہوا۔ ۱۹۱۲ میں جب مراکو پر فرانس کا سیاسی قبضہ ہوا تو مولانا شبلی نعمانی نے ایک نظم میں کہا تھا : مراکش جا چکا فارس گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ جیتا ہے یہ ٹرکی کا مریض سخت جاں کب تک مسلم ملکوں پر مغرب کے استعمار کو مسلم رہنماؤں نے صرف اس کے تاریک رخ سے دیکھا۔ حالاں کہ اس میں ایک روشن پہلو بھی موجود تھا۔ اسی کے نتیجہ میں لاکھوں مسلمان مسلم ملکوں سے نکل کر مغربی ملکوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader