ایک سفر
Urdu book, p. 588
By Maulana Wahiduddin Khan
اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ کہنے والے صرف کہتے ہیں اس لئے سننے والے لوگ بھی صرف سن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے تو کامل اخلاص کے ساتھ دعوت دی۔ اس کے با وجود ان کے معاصرین ان کی بات ماننے پر راضی نہیں ہوئے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ صورت داعی کے غیر مخلص ہونے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ مخاطبین کی عدم قبولیت کی بنا پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مادی چیزوں کی طرف رغبت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ لوگوں کو مادی چیزوں کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مسجد سے واپس ہو کر ہوٹل پہنچا تو یہاں ڈاکٹر محمد الکبیر علوی میرا انتظار کر رہے تھے۔ وہ وزارتِ الاوقاف والشئون الاسلامیة میں مدیر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بہت عرصہ ہوا میں نے آپ کی کتاب الاسلام التحدی پڑھی تھی۔ اس کے بعد کوئی اور کتاب مجھ کو نہیں ملی۔ وہ میرے ساتھ میرے کمرہ میں آئے تو یہاں میں نے ان کو الاسلام تحدی سمیت کئی اور عربی کتابیں دیں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے تجویز کیا کہ ان کتابوں کا ایک سیٹ جلالة الملک اور وزیر اوقاف کو ضرور دیں۔ وہ بہت خوش ہوں گے۔ ایک بار میں رباط جدید کے علاقہ میں نکلا۔ یہاں مکانوں کے سامنے نارنگی (برتقال) کے بڑے بڑے درخت تھے، وہ لال رنگ کی نارنگیوں سے لدے ہوئے تھے۔ میرے ایک عرب ساتھی نے بتایا کہ یہ لوگ ان درختوں کو اپنے گھر کے سامنے صرف خوبصورتی کے لئے لگاتے ہیں، وہ ان کے پھلوں کو استعمال نہیں کرتے، نہ کوئی اور ان کو توڑتا۔ یہ میرے لئے بڑے تعجب کی بات تھی۔ دہلی میں اگر کوئی اپنے گھر کے سامنے اس طرح پھل دار درخت لگائے تو ایک بھی پھل درخت پر باقی نہیں رہے گا، خواہ وہ نئی دہلی میں ہو یا پرانی دہلی میں۔ مراکش (مراکو) ایک سیاحتی ملک ہے۔ اس بنا پر یہاں مغربی آزادی کے آثار کافی دکھائی دیتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہاں کے لوگوں میں دینی تعلق بھی بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مراکشی عالم کا قصہ قابل ذکر ہے جو اس طرح بیان کیا جاتا ہے: جدہ میں شیخ محمد نصیف کے گھر پر ایک مراکشی عالم ایک بے داڑھی والے مصری سے الجھ گئے۔ مصری عالم سے انھوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں ۔ مصری عالم نے جواب دیا : من احسن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader