ایک سفر
Urdu book, p. 589
By Maulana Wahiduddin Khan
دولت فی العالم ردنیا کے سب سے اچھے ملک سے، مراکشی عالم نے دوبارہ پوچھا کہ سعودیہ کے کس شہر سے۔ مصری عالم نے جواب دیا : من احسن دولۃ فی العالم وھی مصر ومن احسن مدینۃ فی العالم وھی القاھرۃ (دنیا کے سب سے اچھے ملک مصر سے اور دنیا کے سب سے اچھے شہر قاہرہ سے)، مراکشی عالم اس جواب پر غصہ ہوگئے اور کہا کہ تمہارے ملک کے بارہ میں اللہ نے فرمایا ہے سأوريكم دار الفاسقين۔ میں بہت جلد تم کو فاسقوں کا گھر دکھاؤں گا ، یعنی مصر۔ مصری عالم غصہ میں آکر کھڑے ہوگئے اور مراکشی عالم کی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے حمار کہہ کر چپ ہوگئے۔ (البلاغ بمبئی، جنوری ۱۹۹۴ صفحه ۲۵) اس واقعہ میں مصری عالم کی غلطی اگر بے جا فخر ہے تو مراکشی عالم کی غلطی یہ ہے کہ ایک واقعہ جو اعراض کے حکم کے تحت آتا تھا اس کو انہوں نے نہی عن المنکر کے حکم سے متعلق سمجھ لیا۔ ۱۳ فروری کو مصر وغیرہ کے کچھ نوجوان یہاں میری آمد کی خبر سن کر آ گئے۔ آج کا بیشتر وقت ان سے گفتگو میں گزرا۔ مختلف مقامات پر آج کل کچھ مسلم جماعتیں "مسلح انقلاب" کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ قائم شدہ حکومتوں سے مسلح ٹکر اور چھیٹرے ہوئے ہیں۔ ان کے بارہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ یہ سب اسلام کے نام پر غیر اسلام ہے۔ کیوں کہ اسلام میں قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (شرح نوووی ۱۲/ ۲۲۹) اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی کو قائم شدہ حکومتی نظام کو توڑنا محض کسی شخص یا گروہ کی کوشش سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ہمیشہ تاریخ کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ اگر تاریخی تبدیلیاں مساعدت کے لئے موجود نہ ہوں تو ایسی ہر تحریک فساد اور خون ریزی پر منتج ہوتی ہے اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کو صرف پر امن دعوتی جد و جہد تک محدود رکھیں ۔ یہاں تک کہ وہ ضروری تاریخی امکانات پیدا ہو جائیں جن کو استعمال کرکے سیاسی انقلاب کے مرحلہ تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔ رباط پہنچنے کے بعد کل شام کو میں نے اپنے دہلی کے دفتر کو ایک فیکس روانہ کیا تھا۔ آج وہاں سے اس کا جواب آگیا۔ اس کو دیکھ کر میری زبان سے شکر کا کلمہ نکلا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالی نے انسان کو کیسے کیسے وسائل دے دئے ہیں۔ یہ سن کر ایک عرب نوجوان نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader