ایک سفر
Urdu book, p. 594
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے، ان کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک تاریخ کا سفر گھوڑوں ہی پر ہوا ہے۔ گھوڑوں نے تاریخ انسانی کو ابتدائی حرکت دی ہے۔ میں گھوڑے کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ مشینی سواریوں کے ظہور میں آنے سے پہلے خدا نے زندہ سواری کے لئے انسان کو گھوڑا دے دیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم احسان ہے۔ اس کے بغیر انسانی تاریخ کا سفر ہی شاید رک جاتا۔ آج ایک واقعہ گزرا۔ اس کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ غماً بغم لكل يلاتأسو اعلى ما فاتکم ولا تفرحوا بما اتکم کا مطلب یہ ہے کہ غم پر غم ڈال کر آنہ مائش کی گئی کہ کیا تمہارے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ فوت ہونے پر تمہارے اندر یاس نہ پیدا ہو اور دریافت پر تمہارے اندر فرحت نہ پیدا ہو۔ ۱۶ فروری کو یہاں کے ریڈ یو کے نمائندہ عبدالرحیم برقیہ آئے اور اسلام تجددی کے مباحث پر انٹرویو لیا۔ ان کے چار خاص سوال تھے۔ ۱۔ نیچرل لاکی بنیاد پر جدید ملحدین کا جو استدلال ہے اس کو آپ کیوں بے بنیاد سمجھتے ہیں۔ کیا یہ ملحدانہ استدلال اب بھی کوئی علمی اہمیت رکھتا ہے۔ ۲۔ لاشعور کے نظریہ کے تحت کہا جاتا ہے کہ دینی عقائد محض ذہنی اختلال کا نتیجہ ہیں، اس دعویٰ کا علمی رد آپ کے نزدیک کیا ہے۔ ۳۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ آفات جن کے مقابلہ میں انسان بے بس ہے، ان کو دیکھ کر انسان کے اندر جو خوف کی نفسیات پیدا ہوئی، اس نے خدا کا عقیدہ پیدا کیا۔ ۴۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس بحث میں سب سے اہم مسئلہ طریق استدلال کا مسئلہ ہے۔ آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ استدلال کا طریقہ اب پوری طرح دین کے حق میں ہے۔ ان سوالات کے جوابات میں نے اپنی ہندوستانی عربی میں دئے تاہم اس کو انھوں نے سمجھا اور خوش ہوئے۔ اگر ممکن ہوا تو انشاء اللہ ان جوابات کو مزید مفصل کرکے الرسالہ میں سوال و جواب کی صورت میں چھاپ دیا جائے گا۔ ۱۶ فروری کو الدروس الحسینۃ کا آغاز ہوا۔ مختلف ملکوں سے آئے ہوئے شرکا راجتماعی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader