ایک سفر
Urdu book, p. 595
By Maulana Wahiduddin Khan
القصر الملکی میں لے جائے گئے۔ وہاں فرد اِفردۂ ہر ایک سے الملک الحسن الثانی نے ملاقات کی۔ میں نے ملاقات کے وقت اپنی عربی کتابوں کاسٹ انہیں پیش کیا۔ میں اپنے ساتھ دہلی سے کوئی کتاب نہیں لایا تھا۔ یہ سب ٹیونس سے آنے والے ایک نوجوان نے مجھے دیا۔ وہ مجھ سے ملنے کے لئے رباط آئے تھے ۔ اور اپنے ساتھ یہ کتابیں بھی لے آئے۔ ۱۶ فروری ( ۵ رمضان ۱۴۱۳ھ) کا درس الاستاذ عبد الکبیر العلوی المدغری (وزیر الاوقاف والشئون الاسلامیہ ) نے دیا۔ موضوع علم الناسخ والمنسوخ تھا۔ انھوں نے کہا کہ علماء نے پانچ سو سے بھی زیادہ منسوخات بتائے ہیں۔ اس کو مانا جائے تو قرآن کا معظم حصہ منسوخ قرار پاتا ہے۔ یہ نا قابل فہم ہے۔ مفسرین عام طور پر قتال کی آیت کو صبر و اعراض اور عفو و صفح کی آیتوں کے لئے ناسخ مانتے ہیں۔ حالاں کہ صبر و اعراض اور عفو و صفح دین کی اہم ترین تعلیمات ہیں۔ نسخ کے معاملہ میں یہی نقطہ نظر صحیح ہے۔ چنانچہ الزرکشی نے البرهان فی علوم القرآن میں نسخ کی بابت لکھا ہے کہ ھو تبدیل الحكم لتَبَدُّل المصلحة العملية ۔ یعنی نسخ حقیقۃ عملی مصالح کے بدلنے کی بنا پر (وقتی طور پر) حکم میں تبدیلی کا نام ہے۔ ہوٹل کے نیچے ہال میں آنے والے کئی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے پاس کی نشست پر زیادہ عمر کے ایک شیخ تھے جو لبنان سے آئے تھے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں میں نے کہا کہ ہند سے۔ انھوں نے پوچھا کہ ہند میں مسلمانوں کا حال کیسا ہے ( كيف احوال المسلمين فى الهند ) میں نے ابھی کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ انھوں نے دوبارہ کہا : مصائب، مش مصيبة واحدة۔ یعنی ہندوستان کے مسلمان کسی ایک مصیبت میں نہیں بلکہ بہت سی مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ ہندوستان کے بارہ میں زرد صحافت اور زرد قیادت کے پروپیگنڈے کے نتیجہ میں لوگوں کو یہ بات تو معلوم ہے کہ بابری مسجد کو ہندوؤں نے ڈھادیا۔ مگر یہ بات انہیں سرے سے معلوم نہیں کہ خود نااہل مسلم رہنماؤں نے نہایت غلط سیاست چلا کر اس معاملہ کو بگاڑا۔ اسی طرح لوگوں کو یہ بات بھی معلوم نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خود ساختہ نمائندہ بن کر جو لوگ مسلمانوں کی تباہی کا چرچا کر رہے ہیں وہ خود اسی ہندوستان میں اپنے پورے خاندان سمیت نہایت شاندار زندگی گزار رہے ہیں۔ بالیش رہنما بھی اور بے ریش رہنما بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader