ایک سفر
Urdu book, p. 603
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامیوں ، بد قسمتی سے تشدد کو اسلام کی اقامت کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں ، اسی کی وجہ سے یہ ساری غلط فہمی پیدا ہوئی ہے ۔ یہی بات ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نے کہی ۔ انھوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم دوبارہ نبوی اصول کی طرف واپس لوٹیں (لا بد من الرجوع الى القاعدة النبوية) اخوانی فکر کے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ سلمان رشدی کے قتل کے فتوے کو غلط سمجھتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں میری رائے کوئی نئی یا منفرد رائے نہیں ہے ۔ ایک رائے بلا شبہ وہ ہے جس کو امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں بیان کیا ہے ۔ مگر علما کے درمیان ایک اور رائے بھی موجود ہے ۔ چنانچہ مرتد کے بارہ میں (اور اس پر قیاس کرتے ہوئے شاتم کے بارہ میں بھی، ابراہیم النخعی اور سفیان الثوری کی رائے یہ ہے کہ اس سے ہمیشہ صرف تو بہ کا تقاضا کیا جائے گا ، اس کو قتل نہیں کیا جائے گا (لیست تاب ابداً ولا يقتل)۔ عمر عبد السلام رباط میں عربی اخبار الشرق الاوسط کے نمائندہ ہیں ۔ انھوں نے ۱۹ فروری کو انٹرویو لیا ۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے حالات اور معاملات سے تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں عام طور پر اس کی ذمہ داری ہندوستان کے غیر مسلم فرقہ پر ڈالی جاتی ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل کے واحد ذمہ دار خود مسلمانوں کے نااہل لیڈر ہیں ۔ یہ نام نہاد لیڈ راس عربی مثل کے مصداق ثابت ہوئے ہیں : اذا كان الفراس رئیس قوم سیهدیہم الى دار البوار افغانستان کے بارہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ جنگجوئی افغانیوں کی قومی صفت ہے۔ کبھی ان کے اس مزاج کا مظاہرہ اغیار کے خلاف ہوتا ہے اور کبھی خود اپنوں کے خلاف : و احيانا علی بکر اخینا اذا لم نجد الا اخانا ۲۰ فروری کی شام کو شہر کے ایک ہوٹل نزل المارشی میں تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع تھا۔ اس میں شرکت کی ۔ ڈھائی گھنٹہ تک ان کے سامنے دین کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader