ایک سفر
Urdu book, p. 602
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ دور جدید کا سب سے بڑا جرم کر رہے ہیں۔ یہی وہ نادانی ہے جس نے موجودہ زمانہ میں اسلام کی دعوت کا راستہ روک رکھا ہے۔ یہ برائی جس دن ختم ہوگی اسی دن اسلام کی اشاعت کے دروازے کھل جائیں گے۔ ۲۰ فروری کو ایک نوجوان ملاقات کے لئے آئے۔ ان کا نام الهیلة لى مصدق ہے۔ الهیلة لى ان کا خاندانی نام ہے جو عام رواج کے خلاف شروع میں لکھا جاتا ہے۔ یہ نوجوان جریدہ الرائے (رباط) کے نمائندہ تھے۔ انھوں نے الرائے کے لئے انٹرویو لیا۔ سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے دینی اور سیاسی مسائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک سوال یہ تھا کہ: ماھی نصيحتكم الى الشباب المسلم (مسلم نوجوانوں کے لئے آپ کی نصیحت کیا ہے)۔ میں نے کہا کہ میری نصیحت صرف ایک ہے ــــــــ وہ سیاست سے دور رہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ الهیلة لى مصدق نے الاسلام متحدسی اور بعض دوسری عربی کتابیں پڑھی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مغرب (مراکو) میں خاص طور پر الاسلام متحدسی بہت پھیلی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رباط میں ہم مسلم نوجوانوں کو اکٹھا کریں گے، آپ وہاں چل کر انھیں خطاب کریں۔ مگر بعض وجوہ سے میں اس کے لئے وقت نہ نکال سکا۔ مجھے یہ دیکھ کر تعجب تھا کہ مراکو کے بیشتر تعلیم یافتہ حضرات الاسلام متحدسی سے واقف ہیں اور اس کو پڑھے ہوئے ہیں۔ اس کا راز استاذ محمد مقرر وزارت الاوقاف کے ذریعہ معلوم ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ الاسلام متحدسی مراکو کے ثانوی مرحلہ کے نصاب میں عرصہ سے داخل ہے۔ اس بنا پر وہ بہت بڑی تعداد میں یہاں بار بار منگوائی گئی اور کثرت سے پھیلی۔ رباط کے ایک نوجوان انجبشی علال نے کہا: حتی لا يكاد يخلو منه بيت۔ اس طرح کے احساسات بہت سے لوگوں نے بیان کئے ڈاکٹر محمد فتحی عثمان نے کہا کہ امریکہ میں لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسیحیت محبت کا مذہب (ان دين الاسلام دين تشدد و دين المسيحية دين حب) انھوں نے اس غلطی کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ برداشت سے کام لیں اور جذبات میں آکر ایسی کارروائی نہ کریں جس سے خدا کے دین کی تصویر اغیار کی نظر میں بگڑ جائے۔ انھوں نے ایک تقریر میں واضح طور پر کہا کہ آجکل کے اسلام پسند

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader