ایک سفر
Urdu book, p. 606
By Maulana Wahiduddin Khan
بغیر معمولی انتظام کے یہی ہے کہ ہر جگہ ایسے لوگ کھڑے ہوئے ہیں جو ایک لفظ کی غلطی کو بھی پکڑ لیں اور فوراً اس کی تصحیح کر دیں۔ سینگال کے ایک صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ آجکل المساجد قبل الساجد کے اصول پر عمل کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم کو الساجد قبل المساجد کے اصول پر عمل کرنا چاہئے۔ یعنی پہلے عبادت کی روح لوگوں کے اندر پیدا کرنا چاہئے، اس کے بعد مسجد میں اپنے آپ بن جائیں گی۔ انڈونیشیا کے الاستاذ مسلم نے کہا کہ ادخال غير المسلمين في المسجد حرام۔ انھوں نے کہا کہ فقہاء اس معاملہ میں اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا۔ مگر اس آیت سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا۔ اس آیت میں "مشرکین" سے مراد ساری دنیا کی مشرک کمیونٹی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ مشرکین ہیں جن پر خدا کے پیغمبر نے اتمام حجت کی حد تک دعوت پہنچائی۔ اس کے باوجود انھوں نے حق کو نہیں مانا یہاں تک کہ سنت اللہ کے مطابق ان کے استیصال کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک صاحب نے ایک عربی مقولہ سنایا: معرفة الرجال كنز (آدمیوں کو پہچاننا ایک خزانہ ہے) رباط کے عربی ہفت روزہ الرائے کے مراسل الخیلی مصدق نے بوسنیا کے صدر علی عزت بیگوفتش کی کتاب کا عربی ترجمہ البیان الاسلامی دیا۔ اس تقریب سے ان سے جہاد اسلامی کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آجکل مسلمان جگہ جگہ لڑ رہے ہیں اور اس کو جہاد کا نام دیتے ہیں۔ مگر جہاد کی ایک لازمی شرط ہے، اس شرط کے بغیر جو بھی اقدام کیا جائے وہ شرعی اعتبار سے جہاد نہیں ہوگا۔ وہ شرط قرآن کی اس آیت میں ہے: واعدوا لهم ما استطعتم من قوة ومن رباط الخيل ترهبون به عدو الله وعدوكم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد سے پہلے اعداد (تیاری) ضروری ہے۔ اس کا معیار ہے ـــــــــــ اعداد الى حد الارهاب۔ میں نے کہا کہ موجودہ مجاہدین نے کیا ارہاب کی حد تک تیاری کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں میں نے کہا کہ جب شرط ہی پوری نہ کی گئی ہو تو وہ جہاد کیسے ہو جائے گا۔ کیا وضو کی شرط پوری کئے بغیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader