Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 607

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی نماز شرعی نماز ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر حسن محمد الفاتح قریب اللہ سوڈان کی جامعہ ام درمان میں استاد ہیں۔ انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ آپ تو لیبیا میں رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں، میں تو دلی میں رہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ایک شخص نے کہا کہ آپ لیبیا میں رہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کتنی غیر ذمہ داری لوگوں کے اندر آگئی ہے۔ کسی کے بارہ میں کوئی بھی الٹی بات کہنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ زبان کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بعض باتیں آدمی کو جہنم میں پہنچا دیتی ہیں۔ ۲۲ فروری کی شام کو تمام لوگ والی رباط (گورنر رباط) کی رہائش گاہ پر لے جائے گئے یہاں والی کی طرف سے افطار کا انتظام تھا۔ ہم لوگ پہنچے تو افطار کے سامان سے میز بھری ہوئی تھی۔ لمبی افطار کے بعد نماز با جماعت ادا کی گئی۔ اس کے بعد لوگ ایک کمرہ میں بیٹھ کر دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد تین بار کھانے کے سامان سے میز لبر یز کی گئی۔ حسب عادت میں نے چند سادہ چیزیں کم مقدار میں کھائیں۔ ہر ایک کی پلیٹ میں بریڈ رکھی جانے لگی۔ میں نے دکتور ابر اہیم الرفاعی سے کہا کہ نصف لی و نصف لک اور ان کی بریڈ میں سے آدھا لے لیا۔ اس کے بعد میں روٹی اور سلاد ملا کر دھیرے دھیرے کھاتا رہا۔ دکتور حسن محمد الفاتح قریب اللہ (سوڈان) مجھ سے نزدیک کی کرسی پر تھے، آخر میں انھوں نے کہا کہ آپ تو کھاتے ہی نہیں۔ کھانے کی بڑی میز پر مختلف قسم کے کھانے جمع تھے۔ لوگ کھا رہے تھے اور تفریحی باتیں کر رہے تھے۔ میں نہ ان کی ہنسی میں شریک ہو سکا ورنہ ان کی باتوں میں۔ میں بس خاموش بیٹھا ہوا سنتا رہا۔ دکتور احمد علی الامام (مدیر جامعہ ام درمان، سوڈان) بھی قریب ہی تھے۔ وہ دیر تک میری حالت دیکھتے رہے۔ اس کے بعد میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور یہ عربی شعر پڑھا: وحید من الخلان فی کل مہمة اذا اعظم المطلوب قل المساعد ایک بار کھانے سے فراغت کے بعد کچھ عرب علما بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک مصری کو نعتیں یاد تھیں انہوں نے مختلف عربی نعتیں سنانا شروع کیا۔ میں سنتا رہا۔ آخر میں میں نے کہا کہ یہ نعتیں جو آپ نے سنائی ہیں وہ سب کی سب لفظی تعریف کی حیثیت رکھتی ہیں۔ میں آپ کو ایک اور نعت سناتا ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page