Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

بدل کر خالص مسلمان بنا دیا۔ کئی عربوں نے میرے بارے میں اور اسلامی مرکز کے مشن کے بارے میں اپنے خواب بتائے جو نہایت عجیب اور بظاہر ناقابل قیاس تھے۔ مثلاً ایک عرب نوجوان نے کہا کہ میں نے آپ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس عربی لباس نہیں۔ اس پر عرب نوجوان نے کہ کہ میرے پاس دو عربی لباس ہیں۔ ان میں سے ایک میں آپ کو دے دیتا ہوں۔ ایک اور عرب نے بتایا کہ خواب میں ان سے میری ملاقات ہوئی۔ اس وقت میں نے ان سے جو گفتگو کی وہ انگریزی زبان میں تھی۔ میں نے انگریزی داں قوموں میں اسلام کی اشاعت کی ضرورت پر زور دیا۔ وغیرہ۔ پاکستان کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ فکری تطہیر کا کام تو بہت اچھا کر رہے ہیں، مگر عملی انقلاب کے لئے ابھی تک آپ نے کوئی پروگرام شروع نہیں کیا۔ میں نے کہا کہ عملی انقلاب نتیجہ کا نام ہے نہ کہ کوشش کا۔ میں نے کہا کہ ہر انقلاب در اصل حالات کے انفجار کا نام ہے۔ مثلاً ایران کا انقلاب اینٹی شاہ جذبات کے اہل پڑنے کا نام تھا۔ وہ تمام واقعات جن کو انقلاب کہا جاتا ہے، ان کی صورت یہی تھی کہ رائج الوقت نظام کے خلاف ناراضی پیدا ہوئی۔ یہ ناراضی اندر اندر پکتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ تخریبی لاوا کی صورت میں اہل پڑی۔ تمام انقلابات تخریبی لاوا کے اہل پڑنے کے نتیجہ میں ظہور میں آئے ہیں۔ تاریخ میں ایک ہی انقلاب اس سے مستثنی ہے، اور وہ پیغمبر اسلام کا انقلاب ہے۔ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا انقلاب بھی ایک لاوا کے پھٹنے سے ظہور میں آیا۔ مگر یہ تعمیری لاوا تھا، نہ کہ دوسرے انقلابات کی طرح تخریبی لاوا۔ پیغمبر اسلام کے انداز کا انقلاب لانے کے لئے تعمیری لاوا تیار کرنا ہوتا ہے۔ اور یہ صرف تعبیر شعور کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ الرسالہ مشن اس وقت یہی کام کر رہا ہے۔ یہ مشن گویا ایک تعمیری لاوا کا رہا ہے۔ جس دن یہ لاوا پک کر تیار ہو گا وہ اپنے آپ پھٹ پڑے گا۔ مگر اس کا پھٹنا خاموش تعمیری انقلاب کی صورت میں ہوگا نہ کہ پر شور تخریب کاری کی صورت میں جس کے نمونے آج جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page