Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 610

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۴ فروری کو استاذ التلمامی الراجی الہاشمی کا درس تھا۔ اس کا موضوع تھا : القرات المتواترة و الوقف القیر و الّنی۔ انھوں نے الترندی میں انس ابن مالک کی اس روایت کو عنوان بنایا تھا کہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأ أنّ النفس بالنفس والعين بالعين (المائدہ) انھوں نے خالص فنی انداز میں قرآن میں اختلاف قرأت اور اختلاف وقف کے اوپر روشنی ڈالی۔ درس کے فوراً بعد افطار کے لئے جانا تھا۔ یہ افطار قصر ملکی کے جنرل کی رہائش گاہ پر تھا۔ رؤساء عرب کے عام دستور کے مطابق بے شمار قسم کے کھانے وافر مقدا ر میں میزوں پر سجائے ہوئے تھے۔ سوا چھ بجے افطار شروع ہوا۔ واپس فندق میں آئے تو رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ سب سے پہلے انواع و اقسام کی چیزوں سے افطار کیا گیا جو پورے کھانے کے برابر تھا۔ کھانے کے دوران لوگ طرح طرح کی تفریحی باتیں کرتے رہے۔ آدمی پانی کی ٹرے لے کر آیا تو ایک صاحب نے کہا : الماء لمن طلب ۔ دوسرے نے کہا و الحليب لمن حلب ۔ اس طرح تفریحی باتوں کے درمیان لوگ کھاتے رہے۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کا اعلان ہوا تو ایک صاحب نے کہا: ما اكلنا لا يهضم الا بالصلاة۔ مغرب کی نماز کے بعد ایک بڑے کمرہ میں نشست ہوئی۔ یہاں لوگوں کے اوپر عطر چھڑکا گیا ۔ بخور جلائے گئے ۔ مختلف قاریوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ ایک قاری نے اقرأ باسم ربك الذی خلق کو سات قرأتوں کے ساتھ پڑھ کر سنایا۔ ایک بار دو قاریوں نے مل کر کورس کی صورت میں قرآن کے کچھ حصے پڑھے۔ کسی نے یمن کی قرأت سنائی ، کسی نے مغرب کی اور کسی نے مصر کی۔ اس کے بعد کھانے کا دور شروع ہوا۔ ایک کے بعد ایک تین بڑی بڑی ٹرے میں لا کر ہر میز پر گوشت رکھ دیا گیا۔ میں تو گوشت کا ایک ریزہ بھی نہ لے سکا۔ تاہم لوگ نہایت ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے رہے۔ حمامہ (کبوتر ) کی ٹرے آئی تو ہر شخص نے ایک ایک مسلم کبوتر اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ ایک صاحب نے کہا: کل و احد بجمام دوسرے صاحب نے کہا: فكل انسان طائره فی عنقه۔ میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہو ا صرف کھانے والوں کا منظر دیکھتا رہا۔ ہر بار گوشت اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ کافی کھانے کے بعد بھی بہت زیادہ بچ جاتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page