ایک سفر
Urdu book, p. 609
By Maulana Wahiduddin Khan
دیتے ہیں مگر میں ان کو چیلنج کہتا ہوں ۔ اور چیلنج ہمیشہ فرد یا قوم کی صلاحیتوں کو ابھارنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ حالات مسلمانوں کے لئے نئی کامیابی کا زینہ ہیں۔ شام کو تمام شرکا، جنرل قادری کی رہائش گاہ پر لے جائے گئے۔ یہاں افطار کا انتظام تھا۔ دیر تک افطار کا سلسلہ جاری رہا۔ لوگ ذوق وشوق کے ساتھ کھاتے رہے اور تفریحی باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے اعلان کیا کہ مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے آجائیں۔ ایک عرب عالم نے اٹھتے ہوئے کہا : ما اکلنا لا یہضم الا بالصلاۃ۔ ہندوستان میں جہاں کہیں کچھ پڑھے لکھے لوگ جمع ہوتے ہیں تو زیادہ تر وہ تفریحی باتیں کرتے ہیں۔ اگر کسی علمی نکتہ کا ذکر آتا ہے تو وہ بھی تفریح کے انداز میں۔ یہاں بھی قریب یہی حال تھا، اس فرق کے ساتھ کہ ہندوستان میں اردو میں تفریحی باتیں ہوتی ہیں اور یہاں عربی میں۔ میز پر کیلا آیا تو ایک صاحب نے اس کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا : الامام مالک کان یحب الموز۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ وہ کیلے کو بھی پسند کرتے تھے اور موت کو بھی۔ ایک لبنانی عالم تھے۔ انھوں نے کہا کہ ویحمل عرش ربك فوقہم یومئذ ثمانية (الحاقہ) میں ثمانیہ سے مراد آٹھ پہاڑ ہیں، ان میں سے ایک لبنان کا پہاڑ ہے۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ یہ تفسیر غلط ہے۔ لبنانی بزرگ نے کہا کہ ہم تو کتابوں میں جو پڑھتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ الراسخون فی العلم یقولون آمنّا بہ ۔ تفریح کے موڈ میں ان کو یاد نہیں رہا کہ آیت میں ایمان سے مراد قرآن پر ایمان ہے نہ کہ تفسیری حاشیوں پر ایمان۔ ایک مجلس میں چند علماء بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی نے ایک مراکشی عالم سے میرا تعارف کرانا چاہا۔ انھوں نے کہا : ان کو کون نہیں جانتا ان کی کتابیں تو اسلامی بیداری کی تمہید ہیں۔ (كتبه مقدمة الصحوة) ۲۴ فروری کی صبح کو فجر کی نماز ادا کی تو ذہن پر سر یہ خیال طاری تھا کہ کل صبح کو مجھ کو یہاں سے روانہ ہونا ہے۔ نماز کے بعد دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر آ گئے : رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا (اے میرے رب، مجھ کو داخل کر سچا داخل کرنا ، اور مجھ کو نکال سچا نکالنا۔ اور مجھ کو اپنے پاس سے مددگار قوت عطا فرما)، بنی اسرائیل ۸۰

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader