Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 612

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۵ فروری کی صبح کور باط سے واپسی تھی۔ فجر کی نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھایا تو یہ الفاظ زبان پر آگئے: خدا یا! آپ ہی مجھ کو خیریت کے ساتھ د ہلی سے مرا کو لے آئے۔ اب آپ ہی مجھ کو خیریت کے ساتھ دوبارہ د ہلی پہنچائیں گے۔ آپ ہی نے مجھے کو پیدا کر کے دنیا میں رکھا، آپ ہی مجھ کو آخرت میں خیریت کے ساتھ داخل کریں گے۔ روانہ ہوا تو خیال آیا کہ سفر میں روزہ رکھ لوں تاکہ ناغہ نہ ہو۔ پھر یہ حدیث یاد آئی کہ لیس من البر الصيام فی السفر۔ چنانچہ میں نے ۲۵ فروری کو روزہ نہیں رکھا۔ البتہ ۲۶ فروری کی صبح آئی تو روزہ کی نیت کرلی۔ ۲۵ فروری کی صبح کو واپسی تھی۔ ہوٹل سے ائیر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی ڈاکٹر ابراہیم الرفاعی کا ساتھ رہا۔ وہ بیک وقت علمی اور صوفیانہ مزاج کے آدمی ہیں۔ اتفاق سے یہی میرا مزاج بھی ہے۔ چنانچہ راستہ میں اسی قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔ ائیر پورٹ پہنچے تو میرے ساتھ حسب معمول صرف ایک بیگ تھا۔ اس کو دیکھ کر انہوں نے کہا: فاز المخففون۔ الدار البيضاء (کیسا بلانکا) سے پیرس کے لئے ایئر مراک، فلائٹ ۳۸۰ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں مختلف چیزیں پڑھیں۔ نیوز ویک (۲۸ فروری ۱۹۹۴) کی کور اسٹوری کا عنوان تھا: A child's diary of war. ایک تیرہ سالہ لڑکی (Zlata Filipovic) بوسنیا کے شہر سراجیو (Sarajevo) میں رہتی تھی۔ اب وہ پیرس میں ہے۔ اس نے سراجیو میں ڈائری لکھنا شروع کیا۔ اس کی یہ ڈائری حال ہی میں امریکہ سے چھپی ہے۔ اس میں اس نے اپنے احساسات درج کئے ہیں جو پڑھنے کے قابل ہیں۔ اس کا ایک تاثر انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا تھا کہ سرب، کروائٹ اور مسلمان سب ایک قوم کے لوگ ہیں۔ سیاست کیوں ہم کو الگ کر رہی ہے۔ یہ سیاست بڑی عمر کے لوگ چلا رہے ہیں۔ ہم نو جوان اس کو زیادہ بہتر طور پر چلا سکتے ہیں: Serbs, Croats and Muslims - they are all people. Why is politics separating us. Politics are conducted by grown-ups. We young would do it better. (12) اس ڈائری کو پڑھ کر کہ اندازہ ہو کہ بوسنیا میں اسی قسم کی سیاست چلائی گئی جو بر صغیر ہند میں چلائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page