ایک سفر
Urdu book, p. 629
By Maulana Wahiduddin Khan
Yet if Muslims today see themselves as victimized by the West, for most of their history it was Christendom that felt under siege. Within a century of the Prophet's death in 632, the Moors had conquered Spain and were knocking on the doors of France. Charles Martel, father of the Frankish Emperor Charlemagne, stopped them at the Battle of Tours. By 1453, however, the Ottoman Turks had captured Constantinople and were marching through the Balkans toward the back door of Europe. The last, failed siege of Vienna in 1683 halted that expansion. (p.23) پچھلے ہزار برس کی تاریخ کا بیشتر حصہ مسلم یلغار کا دور تھا۔ اس کا دوسرا حصہ مغربی یلغار کا دور ہے۔ یہ انصاف کے خلاف ہوگا کہ ابتدائی حصہ کو بھلا دیا جائے اور صرف آخری حصہ کو یاد رکھا جائے ۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو قرآن کی اس آیت سے نصیحت لینا چاہئے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو ان کو بھی اسی طرح کا زخم پہنچا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (آل عمران ۱۴۰) میلان کی قدیم تاریخ سے جو واقعات وابستہ ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو الرازی (۹۲۳ - ۶۸۶۵) سے متعلق ہے جو اسلامی تاریخ کا مشہور فلسفی اور طبیب تھا۔ الرازی کی ایک مشہور طبتی تصنیف کتاب الطب المنصوری ہے۔ یہ کتاب اس نے دس جلدوں میں تیار کی تھی۔ اس کتاب کا ترجمہ لاطینی زبان میں گیرارڈ (Gerard of Cremona) نے کیا۔ یہ لاطینی ترجمہ پہلی بار میلان سے پندرھویں صدی کی ثمانینیات میں شائع ہوا۔ گیرارڈ ڈائی کے شہر کر میونا میں ۱۱۱۴ء میں پیدا ہوا۔ یہ مقام میلان سے قریب ہے۔ گیرار ڈچاہتا تھا کہ وہ بطلیموس کی کتاب المجسطی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کرے۔ اس وقت یہ کتاب صرف عربی میں دستیاب تھی۔ چنانچہ گیرار ڈ عربی زبان سیکھنے کے لئے طلیطلہ (Toledo) گیا۔ وہاں عربی سیکھ کر اس نے المجسطی کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ اس کے بعد وہ طلیطلہ میں رہ گیا۔ مسلم اسپین کے اسی شہر میں ۱۱۸۷ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے تقریبا ۸۰ عربی کتابوں کا ترجمہ لاطینی زبان میں کیا۔ یہ آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے جب کہ یورپ کو خود اپنے علوم سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے عربی زبان کی ضرورت ہوتی تھی۔ آج یہ حالت ہے کہ دنیا کی اکثر یونیورسٹیوں اور لائبریریوں اور تحقیقی اداروں میں عربی زبان موجود ہے مگر زیادہ تر تاریخی اعتبار سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader