Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 628

By Maulana Wahiduddin Khan

میں قبضہ کیا اور اس کے بعد پورے مسلم (صقلیہ) پر اپنی حکومت قائم کی۔ پالرمو اور مسی کو انہوں نے ہر لحاظ سے ترقی دی۔ وہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ انھوں نے یہاں نئے زرعی طریقے رائج کئے، اور باغبانی کو غیر معمولی ترقی کے درجہ تک پہنچا دیا: The city prospered under Muslim rule as an emporium of the rich trade with North Africa. New agricultural techniques were introduced, and luxuriant gardens were planted in the Conca d'Oro (13/930). دور اول میں مسلمانوں کو عظمت کا جو مقام ملا اس کا راز "شمشیر و سنان" نہیں تھا۔ اس کا حقیقی راز صرف ایک تھا۔ اور وہ نفع بخشی تھا۔ دور اول کے مسلمان اہل عالم کے لئے نفع بخش بنے، اس لئے اہل عالم نے ان کو عزت اور سرداری کے مقام پر بٹھایا۔ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں نے نفع بخشی کی صلاحیت کھودی ہے، اس لئے موجودہ زمانہ میں انھیں عزت و سرداری بھی نہ مل سکی۔ اب کھوئی ہوئی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں دوبارہ دوسروں کے لئے نفع بخش بننا پڑے گا۔ لفظی شور و غل یا منفی ہنگاموں سے کبھی مسلمانوں کو کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے، اور قدرت کے قانون میں تبدیلی ممکن نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، مسلمانوں کی یلغار یورپ کی طرف جاری رہی۔ یہاں تک کہ وہ ویانا اور وینس (Venice) اور روم تک پہنچ گئے ۔ ٹائم میگزین کا اسلام پر خصوصی ایشو ۱۵ جون ۱۹۹۲ میں نکلا تھا۔ اس میں اس نے لکھا تھا کہ موجودہ مسلمان یورپ کی زیادتیوں کی شکایت کرتے ہیں، حالاں کہ مسلمانوں کے پورے دور اقتدار میں مسیحی دنیا اپنے آپ کو محاصرہ کے اندر محسوس کرتی تھی۔ ۶۳۲ میں پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد ایک صدی کے اندر مسلمانوں نے اسپین کو فتح کر لیا تھا اور وہ فرانس کے دروازہ پر دستک دے رہے تھے۔ شارلیمین کے باپ چارلس مارٹل نے ٹورس کی جنگ میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا۔ تاہم ۱۴۵۳ میں عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کر لیا اور بلقان کے راستہ سے یورپ کی طرف بڑھنے لگے۔ ۱۶۸۳ میں ویانا کے ناکام محاصرہ نے ان کی مزید توسیع کو آخر کار روک دیا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page