ایک سفر
Urdu book, p. 634
By Maulana Wahiduddin Khan
تک کھنڈر کی صورت میں پڑی ہوئی ہیں۔ مزید گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ یہ وہ خروج نہیں ہے جو شریعت میں حرام ہے۔ کیوں کہ امام عادل کے خلاف خروج حرام ہے، جب کہ الجزائر کے حکمران ظالم اور جائر ہیں۔ مگر یہ شرط صحیح نہیں۔ خروج (سیاسی بغاوت) کا مسئلہ عادل اور غیر عادل کے فرق پر مبنی نہیں ہے بلکہ قائم شدہ اور غیر قائم شدہ کے فرق پر مبنی ہے۔ جو حکومت عملاً قائم ہو جائے خواہ وہ کسی کے نزدیک عادل ہو یا غیر عادل، اس کے خلاف خروج لازماً حرام ہوگا۔ اس اعتبار سے الجزائر اور مصر وغیرہ ملکوں میں اسلام کے نام پر سیاسی بغاوت کی جو تحریکیں چل رہی ہیں وہ شرعی مسئلہ کے اعتبار سے سراسر نا جائز ہیں۔ کیوں کہ یہ تحریکیں قائم شدہ حکومتوں کے خلاف چلائی جا رہی ہیں۔ ۱۹ ستمبر کی شام کو میلان کے سب سے بڑے تھیٹر میں افتتاحی اجلاس ہوا۔ یہ ایک عالمی شہرت یافتہ تھیٹر ہے جو ۱۷۷۸ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ وہ غیر معمولی عظیم ہے۔ زیادہ بڑی بڑی تقریبات اسی کے اندر انجام پاتی ہیں۔ افتتاحی اجلاس میں تین بڑی تقریریں ہوئیں۔ مقررین میں سابق سوویت یونین کے سابق حکمراں گورباچوف بھی شامل تھے۔ میری سیٹ پہلی صف میں دائیں طرف تھی۔ اس لئے میں گورباچوف کو بہت صاف دیکھ سکتا تھا۔ مسیحی دنیا میں گورباچوف کا استقبال غالباً اس لئے ہوا ہے کہ اس کی پالیسی کی وجہ سے سابق سوویت یونین میں چرچ کو آزادی ملی اور مقفل چرچ دوبارہ کھول دئے گئے۔ پہلے یہاں کی رسم کے مطابق بعض خاص تقریبات ہوئیں میری سیٹ کا نمبر ال تھا اور گورباچوف کا نمبر ۴ا۔ گورباچوف اپنی اہلیہ کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے۔ وہ پہلی صف میں میرے قریب پہنچے تو مجھ سے اور چند لوگوں سے مصافحہ کیا۔ ان کا چہرہ بظاہر سوکھا ہوا تھا۔ تاہم انھوں نے مصافحہ کرتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی۔ جب میں نے گوربا چوف کو قریب سے دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک دیکھے ہوئے شخص کو دیکھ رہا ہوں۔ کیوں کہ اخباروں کی تصویریں میں بار بار میں ان کو دیکھ چکا تھا۔ مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی کہ و أوتوا به متشابها (بقرہ ۲۵) میں نے اس سے پہلے گورباچوف کو نہیں دیکھا تھا مگر میں نے ان کی تصویر کو دیکھا تھا۔ اسی طرح اہل جنت نے اگر چہ اس سے پہلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader