ایک سفر
Urdu book, p. 635
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت کو نہیں دیکھا ہو گا مگر انھوں نے اس کی تصویر کو دیکھا ہو گا۔ موجودہ دنیا کی ہر نعمت دراصل نعمت جنت کی ایک تصویر ہے۔ آخر میں گورباچیف نے روسی زبان میں تقریر کی۔ میں نے اس کا انگریزی ترجمہ سنا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ آج کی دنیا کی طاقت ہتھیار نہیں ہے بلکہ ریزن ہے۔ یہ بات ایک ایسا شخص کہہ رہا تھا کہ جو تاریخ کے ہولناک ترین ہتھیاروں کا مالک رہ چکا ہے۔ کانفرنس میں ایک عرب شیخ سے ملاقات ہوئی۔ فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے اعتراف کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ تمام عرب ممالک اس پر چپ ہیں۔ کسی نے بھی اس کی ندمت نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ راضی ہیں۔ انھوں نے پر مسرت چہرہ کے ساتھ کہا : انا فرحان، والله انا فرحان (میں خوش ہوں، بخدا میں خوش ہوں)، اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ پچاس سالہ ٹکراؤ کے نتیجے میں ان کا سب کچھ کھو گیا تھا۔ ان کے لئے نہ امن تھا، نہ رہنے کی جگہ اور نہ معاش کا انتظام۔ ایسی حالت میں ان کے لئے کوئی اور صورت باقی نہیں رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے نام کے ساتھ آپ کی اس رائے کو اپنے سفر نامہ میں لکھ سکتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں نہیں (لا لا)۔ مجھ میں اور دوسروں میں یہی فرق ہے۔ میں جو حالات سے موافقت کی بات کرتا ہوں وہ کسی بھی درجہ میں تنہا میری رائے نہیں ہے۔ وہی تمام باشعور مسلمانوں کے دل کی آواز ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے لوگ صرف نجی ملاقاتوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں، وہ اس کے لئے اعلان نہیں کرتے۔ جب کہ میرا معاملہ یہ ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہوتا ہے وہی میری زبان پر بھی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اس دہرے معیار کا تحمل نہیں کر سکتا کہ میرے دل میں کچھ اور ہو اور میری زبان پر کچھ اور۔ ۲۰ ستمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء کو چھ گروپ میں بانٹ دئے گئے۔ ہر گروپ کے لئے الگ الگ موضوع مقرر کر دیا گیا۔ یہ پروگرام یہاں کی مشہور کیتھولک یونیورسٹی میں تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ نیز شہر کے لوگ بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شریک ہوئے۔ ایک گروپ کا موضوع وسط ایشیا میں ان تھا۔ میں اس میں شریک ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader