ایک سفر
Urdu book, p. 636
By Maulana Wahiduddin Khan
اس میں مختلف ملکوں کے یہودی علماء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ایک یہودی ربی نے کہا کہ واشنگٹن میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کا جو عمل شروع ہوا وہ بہت مشکل ہے تاہم امید ہے کہ خدا کی مدد سے امن کی کوشش کرنے والے اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گے: By the help of God, peace makers will make it. ۲۰ ستمبر کو شام کا کھانا میلان کے پرانے قلعہ میں تھا۔ یہ قلعہ چودھویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا مگر ابھی تک وہ نہایت اچھی حالت میں ہے۔ اس میں ایک میوزیم قائم ہے۔ یہاں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک دکتور کمال الشریف تھے جو اردن سے آئے تھے۔ وہ فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ انھوں نے فرانس کے مشہور مصنف اینڈرے مالراکس (Andre Malraux) کے بارہ میں بتایا کہ اس نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی یا تو مذہبی صدی ہوگی یا سرے سے اس کا وجود ہی نہ ہوگا: القرن الواحد و العشرون اما ان يكون قرن الدين او لا يكون یہ بات نہایت درست معلوم ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ حالات بظاہر پہلے امکان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ کیوں کہ ساری دنیا میں بہت بڑے پیمانہ پر مذہب کا احیاء جاری ہے۔ حالات انسان کو تیزی سے مذہب کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ پہلے مرحلے میں بظاہر ہر مذہب ابھرے گا۔ اس کے بعد انسان صحیح تر مذہب کی تلاش کرنا چاہے گا۔ اور یہ دوسری کوشش اس کو ”دین محفوظ“ تک پہنچانے کا سبب بن جائے گی۔ ۲۱ ستمبر کی صبح کو دوبارہ مجھے چھ پینل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ میں نے اس پینل کا انتخاب کیا جو بوسنیا کے مسئلہ پر تھا۔ ہال میں پہنچا تو وسیع ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ غالباً آج سب سے زیادہ لوگ اس کو سننے کے لئے آئے تھے۔ حاضرین میں سے کثیر تعداد شہر کے لوگوں کی تھی۔ مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ زیادہ تر تقریریں انگریزی میں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ بوسنیا کا مسئلہ یورپ کی امیج کے لئے فٹ ڈینٹل انجری کے ہم معنی ہے۔ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader