Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 638

By Maulana Wahiduddin Khan

لائیجر میبی بن کر رہنا چاہتے ہیں۔ آغاز جنگ سے پہلے یہاں دو ملین مسلمان تھے۔ یورپ یہاں کے مظلوم مسلمانوں کو مقا بلہ کی اجازت بھی نہیں دے رہا ہے۔ بغیر سبزیوں کو ختم کرنا ، یہ سب کا مقصد ہے۔ موجودہ آرمی جو کمیونسٹ دور میں بنی تھی اس میں بیشتر افراد ملحد اور مذہب مخالف ہیں۔ شیخ یعقوب سلیمو سکی کی جذباتی تقریر کو تمام حاضرین آلات کے ذریعہ انگریزی اور اطالوی زبان میں سن رہے تھے۔ انھوں نے تقریر ختم کی تو ہال میں دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ کسی اور کی تقریر پر اتنی تالی نہیں بجی۔ انھوں نے کہا : مجھے یقین ہے کہ یہ تالیاں ہمارے نقطہ نظر کی پر جوش تائید کر رہی ہیں۔ ۲۲ ستمبر کو آخری اجلاس تھا۔ صبح سے دوپہر تک کے اجلاس میں لوگوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ۔ اور آخر میں امن کے قیام کے موضوع پر تجویز پیش ہوئی اور منظور ہوئی۔ دوپہر بعد حسب روایت " پر ییر " کی تقریب تھی۔ یعنی امن کے قیام کے لئے اجتماعی دعا۔ مختلف مذہب کے لوگوں کے لئے الگ الگ جگہیں متعین کی گئی تھیں ۔ ہمیں ایک چرچ تک پہنچایا گیا۔ یہاں چرچ کی عمارت کے وسیع حصہ کو خالی کر کے مسجد کے انداز میں بنایا گیا تھا۔ امن عالم کے لئے یہ ساتویں انٹرنیشنل میٹنگ تھی۔ اس سے پہلے اس قسم کی میٹنگ اسپین، روم، وارسا، باری، مالٹا، برو سیلز میں ہو چکی ہے ۔ اب یہ ساتویں میٹنگ میلان ( اٹلی) میں ہوئی ہے ۔ ان عالمی اجتماعات میں مخصوص تقریب کے دوران اس کے شرکا، امن کی اپیل پر دستخط کرتے ہیں۔ شیخ یعقوب سلیمو سکی کا پتہ یہ ہے: S. Selimoski Yakub, Rijpset Islamike Ajednice, Sarajeyo (B.H.) ۲۲ ستمبر ۱۹۹۳ کو میلان کے جس وسیع مکان میں مسلمانوں کے لئے اجتماعی عبادت کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ اس کے ایک کمرہ میں کانفرنس کے مسلم شرکا جمع ہوئے ۔ سب کی فرمائش پر شیخ یعقوب سلیمو سکی نے بوسنیا کے موجودہ حالات پر ایک تقریر کی۔ یہاں سامعین سب مسلمان تھے۔ ابتدائی تقریر میں انھوں نے صرف مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بیان کئے۔ تقریر کے بعد لوگوں نے سوالات کئے۔ سوال وجواب کے دوران انھوں نے کوئی نئی باتیں بتائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page