Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 639

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص نے کہا کہ موجودہ حالات کا تعقل ماضی کے حالات سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بوسنیا کے مسلمانوں نے بہتر حالت سے بری حالت کی طرف چھلانگ لگائی ہے۔ شیخ نے اقرار کیا اور کہا کہ ہاں، لوگوں نے غلطیاں بھی کیں (طبعا كانت هناك أخطاء)، انھوں نے کہا کہ جنگ چھڑنے سے پہلے وہاں جذباتی تحریک (حركة عاطفية) پائی جارہی تھی نہ کہ عقلی تحریک (حركة عقلية)۔ مسلمانوں کے پاس کوئی عسکری طاقت نہ تھی جب کہ بوسنیا میں نہایت طاقتور سرب فوج موجود تھی۔ اسی فوج نے اعلانِ آزادی کے بعد مسلمانوں کو مارنا شروع کیا۔ شیخ یعقوب کی تقریر سننے کے بعد میں نے ایک عرب عالم (شیخ سکوتہ) سے کہا کہ جب بوسنیا میں سرب کی طاقت ور فوج موجود تھی اور مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہ تھی تو انھوں نے حالات کا لحاظ کئے بغیر آزادی کا اعلان کیوں کر دیا۔ شیخ نے کہا (غفلة كَبيرة)۔ میلان میں ایک بہت بڑا ادارہ ہے جس میں چرچ بھی ہے اور اس کے علاوہ مختلف قسم کی سماجی اور معاشی اور تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس میں اسی ہزار طلبہ کے قیام کا انتظام ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Parrocehia S. Giovanni B. alla Creta ان کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ اپنے یہاں ایک خطاب رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کے عیسائی لوگ اسلام کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ آپ آکر انھیں بتائیں کہ اسلام کیا ہے۔ میں نے ان کی دعوت قبول کر لی۔ ۲۱ ستمبر کی شام کو نادر تارونی (Massimiliano Taroni) اپنے وقت پر آگئے۔ ان کے ساتھ ہم تین آدمی روانہ ہوئے۔ میں، ثانی اتنین اور ڈاکٹر اندر یاد لو کا۔ رات کا کھانا ان کے یہاں کھایا گیا۔ کھانا اور ڈائننگ ہال اور اس کی ہر چیز سادہ مگر انتہائی صاف ستھری تھی۔ کھانے کے بعد ان کے ہال میں پروگرام ہوا۔ پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ یہ پروگرام اچانک بنانا تھا میں نے ۲۰ ستمبر کی شام کا اجلاس چھوڑ دیا۔ اور اپنے کمرہ میں بیٹھ کر پانچ صفحہ پر مشتمل انگریزی میں ایک تقریر تیار کی۔ اس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اسلام کی سادہ تشریح کی گئی تھی۔ لوگوں نے غیر معمولی دلچسپی لی۔ میری تقریر کے ختم کئی لوگوں نے فوری طور پر فوٹو کاپی کر کے حاصل کیا۔ تقریر کے بعد ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page